اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی)چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک میں بدعنوانی دیمک سے بڑھ کرناسورکی صورت اختیار کر چکی ہے جس کا واحد علاج سرجری ہے تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے 179میگا کرپشن کے مقدمات میں سے 105مقدمات میں ریفرنس دائرکرنے کے …
میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے،چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی)چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک میں بدعنوانی دیمک سے بڑھ کرناسورکی صورت اختیار کر چکی ہے جس کا واحد علاج سرجری ہے تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے 179میگا کرپشن کے مقدمات میں سے 105مقدمات میں ریفرنس دائرکرنے کے علاوہ 15مقدمات انکوائری اور19مقدمات انویسٹی گیشن کے مراحل میں ہیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے جبکہ 40مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹادیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ہر کیس میگا کرپشن کے زمرے میں آتا ہے جبکہ وہ کیس جس میں کرپشن کی رقم کم ہوتی ہے وہ نیب متعلقہ صوبائی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو قانون کے مطابق کارروائی کیلئے بھیج دیاجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے ان لوگوں پہ بھی ہاتھ ڈالا جن کے خلاف کوئی کارروائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت معزز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1210بدعنوانی کے ریفرنس زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباً 900ارب روپے ہے ۔








