وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ یکم اکتوبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں مظلوم کشمیروں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے اور بھارتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کو بے نقاب کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے، وفاقی کابینہ نے گوادر بندرگاہ کو ٹیکسیشن سے مستثنیٰ قرار دینے، ای کامرس پالیسی اور حلال فوڈ اتھارٹی کے قیام …

اسلام آباد ۔ یکم اکتوبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں مظلوم کشمیروں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے اور بھارتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کو بے نقاب کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے، وفاقی کابینہ نے گوادر بندرگاہ کو ٹیکسیشن سے مستثنیٰ قرار دینے، ای کامرس پالیسی اور حلال فوڈ اتھارٹی کے قیام کے لئے بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی، کابینہ نے ڈینگی کا مرض پھیلنے، مصنوعی طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے کی شکایت پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ مختلف وزارتوں کی جانب سے مفاد عامہ کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو تحریری صورت میں لا کر کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان پر مقررہ وقت میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان، ملائیشیا اور ترکی نے مل کر بی بی سی طرز کا چینل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہی تھیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان‘ تھنک ٹینکس سے ملاقاتوں سمیت 70سے زائد تعارفی سیشنز کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا جبکہ وزیر خارجہ نے 50ملاقاتیں کیں جن کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی بیانیے کو شکست دی جائے اوربھارت کا سیاہ مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے ‘اقوام متحدہ کی اپنی قراردادیں ‘قوانین اور ضابطوں کے مطابق مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق دلایا جائے ‘وزیراعظم نے بتایا کہ وہ قیادت کی سطح پر ملاقاتوں میں اصل صورتحال بتا کر ان کے ذہنوں کو بدلنے میں کامیاب ہوئے۔

مزید خبریں