سرینگر02اکتوبر(اے پی پی)مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوںمیں بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی، پابندیوں اورذرائع مواصلات کی معطلی کے باعث 59ویں روز بھی نظام زندگی بدستور مفلوج رہا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پابندیوں کے باعث دکانداروں اور گاہکوں کیلئے بازاروںجبکہ طلباءاور اساتذہ کیلئے تعلیمی اداروں تک رسائی ناممکن بن چکی ہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرنسپورٹ بھی مسلسل معطل ہے۔ کشمیریوں کو غذا ، ادویات اور …
مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کا 59واں روز، کشمیریوں کی تکالیف اور پریشانیاں برقرار کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دینا ترکی پر واجب ہے،سپیکر ترک پارلیمنٹ

مزید خبریں
سرینگر02اکتوبر(اے پی پی)مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوںمیں بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی، پابندیوں اورذرائع مواصلات کی معطلی کے باعث 59ویں روز بھی نظام زندگی بدستور مفلوج رہا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پابندیوں کے باعث دکانداروں اور گاہکوں کیلئے بازاروںجبکہ طلباءاور اساتذہ کیلئے تعلیمی اداروں تک رسائی ناممکن بن چکی ہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرنسپورٹ بھی مسلسل معطل ہے۔ کشمیریوں کو غذا ، ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت کا بدستور سامنا ہے جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز سمیت تمام ذرائع مواصلات کی بندش کے باعث کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ لوگ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے کس قدر پریشانیوں کا شکار ہیں۔ دریں اثنا بھارتی پولیس نے مقبوضہ علاقے کی ہائی کورٹ کی ایک چار رکنی کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اس نے پانچ اگست کے بعدسے 9برس کی عمر تک کے بچوں سمیت بیسیوں کم عمر کشمیری لڑکے گرفتار کر لیے ہیں۔ قبل ازیں بھارتی خواتین کے ایک وفد نے مقبوضہ وادی کے اپنے حالیہ دورے کے بعد نئی دلی میں کہا کہ بھارتی فورسز نے کشمیر میں 13ہزار بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔ جموں کی ایک ٹاڈا عدالت نے آزادی پسند رہنماﺅں شوکت بخشی اور جاوید احمد میر کے ایک تین دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔








