اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنرآہلو والہ کو ایک بار پھر دفتر خارجہ طلب کر کے بھارتی فورسز کی طرف سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیوں پرشدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاءو سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کشمنر گوروف آہلو والہ کوجمعہ کو دفتر خارجہ طلب کیا …
بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرآہلو والہ کی ایک بار پھر دفتر خارجہ طلبی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنرآہلو والہ کو ایک بار پھر دفتر خارجہ طلب کر کے بھارتی فورسز کی طرف سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیوں پرشدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاءو سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کشمنر گوروف آہلو والہ کوجمعہ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور 10اکتوبر کو بھارتی فورسز کی طرف سے کنٹرول لائن پر شاردہ،نیزہ پیر، ستوال اور باگسرسیکٹرز میں جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ بھارتی فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 10سالہ بے گناہ شہری بچہ فیضان ولد فیض میر شہید جبکہ 6 بچوں اور دو خواتین سمیت 16 شہری زخمی ہوئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر شہری آبادی کو مارٹر اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانا افسوسناک اور انسانی وقار اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے علاقائی امن وسلامتی کو خطرہ ہے جو کسی تذویراتی غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے بھار ت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے موجودہ اور دیگر واقعات کی تحقیقات کرائے، اپنی فورسز کو جنگ بندی کا حقیقی طورپر احترام کرنے کی ہدایت کرے اور کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر امن برقرار رکھے۔








