اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بین پارلیمانی یونین کی 141 ویں اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول سے بلغاریہ روانہ ہوگئے

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 141 ویں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اتوار کو استنبول سے بلغاریہ روانہ ہوگئے ہیں۔ جہاں وہ 141 ویں آئی پی یو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس سیربیا کے دارالحکومت بلغاریہ میں 13-17 اکتوبر 2019 کو منعقد ہوگی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اپنے پارلیمانی وفد …

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 141 ویں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اتوار کو استنبول سے بلغاریہ روانہ ہوگئے ہیں۔ جہاں وہ 141 ویں آئی پی یو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس سیربیا کے دارالحکومت بلغاریہ میں 13-17 اکتوبر 2019 کو منعقد ہوگی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اپنے پارلیمانی وفد کے ہمراہ اس اجلاس میں شرکت کے علاوہ گورننگ کونسل، قائمہ کمیٹیوں، پارلیمنٹیرین کی کمیٹیوں کے اجلاسوں سمیت کمیٹی برائے انسانی حقوق، خواتین پارلیمنٹیرینز اور ینگ ممبران پارلیمنٹ کے فورم کے اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف گھناﺅنے جرائم اور ریاست کے بے گناہ لوگوں کو ان کے حق خود ارادیت کے حصول میں مدد کے لئے آئی پی یو برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے جن کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے پر امن حل کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اس موقع پر آئی پی یو ممبر پارلیمنٹس کے اسپیکرز ، پرزائیڈنگ افسران اور سیکرٹری جنرل آئی پی یو کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ہونے والی سنگین پامالیوں کے ازالے کے لیے لکھے گئے اپنے خطوں کی بھی آئی پی یو اسمبلی کے ممبران کو یادہانی کروائیں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بین الپارلیمنٹری یونین کے ممبر پارلیمنٹس کے اسپیکرز اور پرزائیڈنگ افسران کو خط لکھے تھے جن میں انہوں نے آئی پی یو کے ممبران کی توجہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی طرف دلائی تھی جہاں بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ تاریخی دھوکہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے عالمی دنیا کی توجہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں سمیت مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو میں محصور عوام کی طرف مبذول کرانے کے لئے کہا تھا۔