اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال سے متعلق ایشیا پیسفک کے بارے میں امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے عوامی سماعت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ و غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈائون نے انسانی بحران کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے اور تمام خطے کی سلامتی کو دائو پر …
بھارت کے یکطرفہ و غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈائون نے تمام خطے کی سلامتی کو دائو پر لگا رکھا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال سے متعلق ایشیا پیسفک کے بارے میں امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے عوامی سماعت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ و غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈائون نے انسانی بحران کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے اور تمام خطے کی سلامتی کو دائو پر لگا رکھا ہے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے جنوبی ایشیاء میں انسانی حقوق کے حوالے سے عوامی سماعت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ اگست کے بھارتی غیر قانونی اقدامات نے تمام خطے کی سلامتی کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔بھارتی فورسز نے بے گناہ کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کر دی ہے، جس کے خاتمہ کیلئے تمام ارکان کی جانب سے متفقہ اور فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔عوامی سماعت میں امریکی محکمہ خارجہ کے سنیئر حکام نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشیوش کا اظہار کیا۔کانگرس ارکان نے بھارتی حکومت کی جانب سے امریکی کانگرس ارکان اور صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہ دینے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ پاکستان نے اپنے طور پر امریکی صدر کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی برادری نے خطے میں امن و استحکام کو خطرات سے بچانے اور تنازعہ جموں وکشمیر کے منصفانہ اورپائیدار حل کیلئے کردار ادا کرنا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی کانگریس کے ارکان کی کوششوں کو سراہتا ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کے ستر سے زائد ارکان او ر صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل رہنما سمیت متعدد ممتاز سیاسی شخصیات نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی کانگریس کی سماعت میں تین اہم پہلوئوں پر بات کی گئی کہ کشمیر میں ایک متنازع علاقہ ہے اور انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال خطرناک ہے۔








