بھارتی بربریت کودنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے27 اکتوبر کو یوم سیاہ منایاجائے گا

راولپنڈی 26اکتوبر(اے پی پی )وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پرمقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کودنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے 27 اکتوبر کو " یوم سیاہ " کے طور پر منایا جائے گا ،اس موقع پر صوبے بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔نظامت تعلقات عامہ راولپنڈی کے ہینڈ آئوٹ کے مطابق وزیر قانون محمد بشارت راجہ کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کے فیصلوں …

راولپنڈی 26اکتوبر(اے پی پی )وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پرمقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کودنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے 27 اکتوبر کو ” یوم سیاہ ” کے طور پر منایا جائے گا ،اس موقع پر صوبے بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔نظامت تعلقات عامہ راولپنڈی کے ہینڈ آئوٹ کے مطابق وزیر قانون محمد بشارت راجہ کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں دیگر اقدامات کے علاوہ صوبائی کابینہ کے اراکین ٫ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ٫ ضلعی انتظامیہ ٫ نجی و سرکاری تعلیمی اداروں اور مختلف سیاسی و تنظیموں کے زیر انتظام خصوصی ریلیوں ٫آگاہی واکس اور سیمینارز کا انعقادکیا جائے گا جن میں سول سوسائٹی کے ارکان اور عام شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو آگاہی فراہم کی جائے گی۔ کمیٹی میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیئے کہ تمام سرکاری اداروں اور محکموں میں ہر جمعہ کے روز کشمیر آور کی تحت پندرہ منٹ کے دورانیہ کی خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا ۔یوم سیاہ کے موقع پرسیاسی و سماجی تنظیموں کی طرف سے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں مقررین مقبوضہ کشمیر میں فاشسٹ بھارتی حکومت کی طرف سے گزشتہ تقریبا اڑھائی ماہ سے جاری بدترین کرفیو اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور موجودہ حکومت کی طرف سے کشمیر کی آزادی کے لیئے اٹھائے جانے والے ٹھوس اقدامات کے حوالے سے شہریوں کو آگاہ کیا جائے گا۔یا د رہے کہ 26 اکتوبر1947 کو کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیریوں کی اکثریتی امنگوں اور تقسیم ہند کے فارمولے کے برعکس کشمیرکا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا اور 27 اکتوبر 1947 کو ہندوستانی افواج کشمیر میں داخل ہو گئیں تھیں جس کی خوشی میں ہندوستان میںاس دن کو قومی طور پر منایا جاتا ہے اورہندوستان کا قومی پرچم لہرایا جاتا ہے اور خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ہر سال 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے ـ عمران خان کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت نے سابقہ ادوارمیںنا معلوم مصلحتوں کے باعث نظر انداز کیے گئے مسئلے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بین الاقوامی برادری کے سامنے بے باکانہ انداز میں اٹھایا ہے اور سیکولر ازم کے لبادے میں لپٹی نریند مودی کی فاشسٹ ہندوستانی حکومت کے مظلوم کشمیریوں پر گزشتہ ستر سالوں سے جاری ظلم و استبداد کا پردہ چاک کیا ہے اس دن سے ہندوستانی حکومت اور افواج نے مقبوضہ کشمیر میںکشمیریوں پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑنے کی انتہا کر دی ہے اور گزشتہ اڑھائی ماہ سے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر کے کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کر رکھا ہےـ موجودہ حکومت کشمیریوں کی سفارتی٫ سیاسی اور اخلاقی مدد کے عزائم کی تکمیل کے لیئے روز اول سے ہی تمام وسائل کے ساتھ روبہ عمل ہے اور آزادی کشمیر کے لیئے ہر سطح پرشعوری آگاہی اورعملی اقدامات اٹھا رہی ہے یوم سیاہ اسی سلسلے کی کڑی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ سابقہ ادوار میں نظر انداز کیے جانے والا مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر ابھر کی دنیا کے سامنے آئے گا اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے نا مکمل ایجنڈے کے تکمیل ہو گی

مزید خبریں