کیمپس پر مبنی انٹرپرینیورئیل سوسائٹیز کی پہلی قومی کانفرنس فاسٹ نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنس اسلام آباد کیمپس میں منعقد ہوئی

کیمپس پر مبنی انٹرپرینیورئیل سوسائٹیز کی پہلی قومی کانفرنس فاسٹ نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنس اسلام آباد کیمپس میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی تقریباً 30 سرکردہ جامعات کے طلبہ نمائندگان، نوجوان انٹرپرینیورز اور فیکلٹی ایڈوائزرز نے شرکت کی۔

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):کیمپس پر مبنی انٹرپرینیورئیل سوسائٹیز کی پہلی قومی کانفرنس فاسٹ نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنس اسلام آباد کیمپس میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی تقریباً 30 سرکردہ جامعات کے طلبہ نمائندگان، نوجوان انٹرپرینیورز اور فیکلٹی ایڈوائزرز نے شرکت کی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ممبر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اینڈ اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر حبیب بخاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر علی ناصر، ایڈوائزر ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈاکٹر عبدالباسط، چانسلر پریسٹن یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف، وائس چانسلر راولپنڈی ویمن یونیورسٹی، مسٹر رضوان خلیل ، چیف منیجر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، راولپنڈی آفس، اور ڈاکٹر اویس محمود، ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز، بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد نے بطور مہمانانِ اعزاز شرکت کی۔

کانفرنس وائی ای ایس پاکستان ینگ انٹرپرینیورز، سی ای اوز اینڈ انوویٹرز سمٹ، ایکسپو اینڈ ایوارڈز 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد ہوئی، جو 20 سے 22 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ہوگا۔ کانفرنس کا مقصد نوجوانوں میں انٹرپرینیورشپ اور جدت کے فروغ کے ساتھ جامعات، صنعت، کارپوریٹ شعبے، مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط مضبوط بنانا تھا۔فاسٹ نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر وسیم شہزاد نے شرکاکا خیرمقدم کیا جبکہ آئی یو سی پی ایس ایس کے نیشنل کوآرڈینیٹر اور وائی ای ایس پاکستان کے بانی محمد مرتضیٰ نور نے کیمپس پر مبنی انٹرپرینیورئیل سوسائٹیز کا مضبوط قومی نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس میں ’’کیمپس کی جدت سے عالمی اثرات تک پاکستان کے مصنوعی ذہانت پر مبنی کاروباری مستقبل کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر بلال فاروقی، بانی مائنڈ ہائیو اے آئی، نے کلیدی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ خواتین کی انٹرپرینیورشپ، طلبہ کی کامیابیوں، کارپوریٹ روابط اور کیمپس انٹرپرینیورشپ کے کردار پر سیشنز اور پینل ڈسکشنز بھی ہوئیں۔مقررین نے جامعات پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو کاروباری، ڈیجیٹل اور قیادتی مہارتوں کے ساتھ رہنمائی، انکیوبیشن، مالی معاونت اور صنعت سے روابط کے مواقع فراہم کریں۔ کانفرنس کے اختتام پر پاکستان میں کیمپس انٹرپرینیورشپ، جدت اور یونیورسٹی، صنعت و کاروبار کے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔