اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسزڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے معرض وجود میں آنے کے بعد پہلا باضابطہ اجلاس پیر کو منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر اشرف تقی کو پاکستان میڈیکل کمیشن کا صدر اور ڈاکٹر علی رضا کو سینئر نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسزڈاکٹر ظفر مرزا کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسزڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے معرض وجود میں آنے کے بعد پہلا باضابطہ اجلاس پیر کو منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر اشرف تقی کو پاکستان میڈیکل کمیشن کا صدر اور ڈاکٹر علی رضا کو سینئر نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے پہلے باضابطہ اجلاس کی تمام تر تفصیلات (آج) منگل کو جاری کریں گے تاہم یہ بتانا ضروری ہے کہ پہلے مرحلہ میں کمیشن کے صدر اور نائب صدر کا تقرر ہونا تھا یہ مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے قانون کے مطابق 3 مہینوں کےلئے سیکرٹری بھی نامزد کر دیا ہے اور ڈاکٹر ناصر الدین 3 مہینوں کےلئے کمیشن کے سیکرٹری کی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے جبکہ قانون کے مطابق 90 دن کے بعد میرٹ پر سیکرٹری کا تقرر ہو گا۔ سیکرٹری کی آسامی کو باقاعدہ مشتہر کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ معمول کی کارروائی جاری رکھنے کےلئے یہ عہدے تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جس میں سے پہلی کمیٹی پی ایم سی کے حوالہ سے امور کو دیکھے گی۔ دوسری کمیٹی مالی امورسے متعلق ہے جس کی نگرانی طاہر خان کریں گے اور تیسری کمیٹی ایچ آر سے متعلق امور کی نگرانی کرے گی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ایچ آر کمیٹی فارغ ملازمین اور نئے آنے والے ملازمین کے حوالہ سے معاملات کو نمٹائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سات رکنی نیشنل ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دیں گے، پی ایم ڈی سی کے تمام ملازمین کو اس ماہ اور اگلے 6 ماہ کی تنخواہیں ادا کر دی جائیںگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے پرانے ایک سے چار سکیل کے ملازمین کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دی جائے گی۔ کمیشن کے اجلاس میں ٹیم پر بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے جس پر پی ایم ڈی سی کے خاتمہ کی وجہ سے شدید دباو¿ بھی ہو گا لیکن تمام امور کو ذمہ داری اور شفافیت کے ذریعے نمٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم سی کے ذریعے صحت کے تمام شعبوں میں لوگوں کا اعتماد بحال ہو گا اور کمیشن جلد از جلد تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ایم ڈی سی کے تمام سابقہ ملازمین کو میرٹ کی بنیاد پر دوبارہ ترجیح دی جائے گی تاہم سکیل چار سے اوپر کے ملازمین کا حق ہے کہ جب آسامیاں مشتہر ہوں تو وہ باضابطہ درخواستیں جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم سی کے نامزد سیکرٹری رجسٹرار کے مساوی گریڈ کے حامل ہوں گے اور انہیں سیکرٹری کا درجہ دیا جائے گا، پی ایم ڈی سی کے دفاتر پی ایم سی کو دیئے جائیں گے۔








