امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں حقیقی صورتحال اوردہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نظراندازکیاگیا ہے، ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) پاکستان نے دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ 2018 ء پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اس رپورٹ میں حقیقی صورتحال اوردہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نظراندازکیاگیاہے۔دفترخارجہ کے ترجمان نے منگل کو یہاں جاری بیان میں کہاہے کہ رپورٹ میں زمینی حقائق اوردہشت گردی کے خلاف دوعشروں سے زیادہ جدوجہد میں پاکستان کی …

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) پاکستان نے دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ 2018 ء پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اس رپورٹ میں حقیقی صورتحال اوردہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نظراندازکیاگیاہے۔دفترخارجہ کے ترجمان نے منگل کو یہاں جاری بیان میں کہاہے کہ رپورٹ میں زمینی حقائق اوردہشت گردی کے خلاف دوعشروں سے زیادہ جدوجہد میں پاکستان کی غیرمعمولی قربانیوں کو مکمل طورپرنظراندازکردیاگیاہے۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان کی کوششوں سے نہ صرف خطے سے القائدہ کا خاتمہ ہوا بلکہ دنیا کومحفوظ بنانے میں بھی مدد ملی، پاکستان دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت ٹھوس اقدامات کے لئے پرعزم ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر1267ء کے تحت پاکستان نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے ضمن میں مخصوص تنظیموں، گروپوں اورافراد پر پابندیوں، ان کے اثاثے منجمد کرنے اوران کے مالی وسائل منقطع کرنے کیلئے جامع قانونی اورانتظامی اقدامات کیے ہیں، علاوہ ازیں پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایکشن پلان کے موثراطلاق کیلئے بھی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ اس رپورٹ میں بھی کہاگیاہے کہ پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان، جے یو اے ،اسلامک سٹیٹ خراسان اوردیگر دہشت گردگروپوں سے سے دہشت گردی کے حملوں کاخطرہ ہے تاہم اس رپورٹ میں یہ بات شامل نہیں کی گئی ہے کہ یہ گروپس سرحدپارسے پاکستان میں دہشت گردی کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خطے اوردنیا میں قیام امن اوراستحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا ذکرکرتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ پاکستان نے نیک نیتی کے ساتھ افغانستان میں قیام امن اورمصالحت کے تناظرمیں امریکا اورطالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں سہولت کاری کی ، اس حوالہ سے پاکستان کے مثبت کردارکا امریکا اورامریکی قیادت سمیت وسیع سطح پر اعتراف کیا گیا، اس کے برعکس کوئی منفی اور ناخوشگوار تاثر بلاجواز اوردونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں متوقع مثبت پیش رفت سے عدم مطابقت پر مبنی ہے۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ تعمیری سرگرمیوں اورتعامل کے ذریعے انسداددہشت گردی کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زوردیاہے۔ ترجمان نے امید ظاہرکی ہے کہ پاکستان کے عزم ، خدمات اورقربانیوں کا مکمل طوراعتراف ہوگا اورانہیں درست تناظر میں سراہاجائے گا۔