اسلام آباد ۔ 18 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان ریاست کا اہم حصہ ہے ،موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ریاستی میڈیا کو خودکفیل بنانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ وہ پیر کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس سے خطاب کر رہیں تھیں ۔اجلاس کی …
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان ریاست کا اہم حصہ ہے ،موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ریاستی میڈیا کو خودکفیل بنانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ وہ پیر کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس سے خطاب کر رہیں تھیں ۔اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کی ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سابقہ ادوار میں ریڈیو پاکستان میں بھی سیاسی بنیادوں پر میرٹ کی دھجیاں بکھیریں گئیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ (پی بی سی) کو منافع بخش اور بااختیار ادارہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے اراکین پی بی سی کی بہتری اور اسے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے تجاویز دیں ،کمیٹی اراکین کی تجاویز اور راہنمائی کی روشنی میں حکومت اقدامات اٹھائے گی ،اس وقت پی بی سی مکمل طور پر حکومتی گرانٹ پر انحصار کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان ریاست کا اہم حصہ ہے اور قومی بیانیے کے فروغ کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ سن کر اچھا لگا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر جہاں پربھارت نے میڈیا کو جھکڑ رکھا ہے میں بھارت ریڈیو پاکستان کی ٹرانسمیشن کو نہیں روک سکا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دیں ہیں کہ پاکستان ٹیلی ویژن اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ضم کر کے اس کے ممبران میں پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے لوگوں کو شامل کیا جائے تا کہ ادارہ پیشہ وارانہ سمت پر چل سکے ۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان قوم کی سماجی ،ثقافتی اور نظریاتی سرحدوں کامحافظ ہے ،دوست ممالک کے تعاون سے ریڈیو پاکستان کے آلات کی اپ گریڈیشن کی جائے گی ۔انہوں نے کمیٹی اراکین کو خضدار ریڈیو سٹیشن کی اپ گریڈیشن کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس سے ان علاقوں میں قومی بیانیے کے فروغ میں مزید مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کو تین ماہ کا ہدف دیا گیا ہے کہ وہ اس مدت میں اپنا بزنس پلان مرتب کریں ۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ جب میں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو اس وقت ریڈیو پاکستان میں مستقل ڈائریکٹر جنرل بھی نہیں تھا ،انفارمیشن گروپ کے افسر کو اضافی چارج دیا گیا تھا ،امور بہتر نہیں چل رہے تھے ،ایک سینئر افسر کو ملازمین نے کمرے میں بند کر دیا تھا ،ہم نے ترجیحی بنیادوں پر مستقل ڈی جی تعینات کیا ۔انہوں نے اراکین پارلمینٹ کو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تعینات کرنے کی تجویز پر کہا کہ اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے لیکن قانون سازی کر کے ایسا کیا جاسکتا ہے ۔








