اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہماری حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے پر عزم ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چھ سال میں اقتصادی تعاون و عالمگیریت کے واحد عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، توانائی اور انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں کی تکمیل ہماری معیشت کیلئے سود مند ثابت ہوئی ہے۔ان …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیلٹ اینڈ روڈ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہماری حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے پر عزم ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چھ سال میں اقتصادی تعاون و عالمگیریت کے واحد عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، توانائی اور انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں کی تکمیل ہماری معیشت کیلئے سود مند ثابت ہوئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں بیلٹ اینڈ روڈ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ 2013ء میں شروع ہونے والا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ (بی آر آئی) چھ سالوں میں اقتصادی تعاون اور عالمگیریت کے واحد عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز، چینی سفارت خانے اور پاور چائنہ کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اس اہم موضوع پر پاکستان و چین سے ماہرین اور تھنک ٹینکس کو اس کانفرنس میں مدعو کیا۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے خدوخال کو بہترین انداز میں پیش کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بدلتے عالمی اقتصادی حالات میں ان منصوبوں کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے، وزارت خارجہ تنہا درپیش گھمبیر چیلنجز سے نمرد آزما نہیں ہو سکتی،ماہرین اور تھنک ٹینکس کی طرف سے مشاورت کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔انہوں نے فارن سروس اکیڈمی کیلئے نئی بلڈنگ کی پیشکش پر چینی سفیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم فارن سروس اکیڈمی کو نئی جگہ پر منتقل کرنے کے خواہاں ہیں اور انشاء اللہ کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 2013ء میں شروع ہونے والا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چھ سالوں کے دوران اقتصادی تعاون اور عالمگیریت کے واحد عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ بی منصوبے کی اہمیت اور تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں اقتصادی تعاون کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے زیادہ عالمگیر شہرت کسی منصوبے کو تاحال نہیں ملی جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کے خطوں میں 4 ارب انسانوں کو مشترکہ ترقی کے ثمرات سے بہرہ ور کرتا ہو۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سٹڈیز سے معلوم ہوا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی تکمیل سے صرف ٹرانسپورٹ منصوبوں میں بے پناہ فوائد حاصل ہوںگے، ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بی آر آئی کی تکمیل سے سفری وقت میں 12 فیصد کمی ، تجارتی حجم میں 2.7 سے 9.7 فیصد اضافے ، انکم کی شرح3.4 فیصد بڑھانے اور لاکھوں افراد کو خط غربت سے نکالنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے کو فی الوقت چار بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں چین امریکہ اقتصادی مسابقت بالخصوص تجارت سے متعلقہ معاملات جو عالمی معاشی استحکام کو منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایران امریکہ کشیدگی ہے جو خطے میں معاشی اور امن و امان کے حوالے سے عدم استحکام کا باعث ہو سکتی ہے،تیسرے نمبر پر افغانستان کی صورتحال ہے اگر اس کا سدباب نہیں ہوتا تو یہ ہماری خطے میں تعمیر و ترقی اور استحکام کی کاوشوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ چوتھے نمبر پر ہمیں جنوبی ایشیا میں بھارت کی ہندوتوا سوچ کے مضمرات کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈی جی سٹریٹیجک سٹڈیز نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ہم معاشی جغرافیے کو بدلتا دیکھ رہے ہیں، ان حالات میں بیلٹ اینڈ روڈ جیسے اقتصادی ترقی کے منصوبے تعمیر و ترقی کے لیے نہایت سود مند ثابت ہونگے اور پاکستان سے زیادہ اس منصوبے کا حامی کون ہو سکتا ہے جو پہلے سے ہی بی آر آئی کے اہم منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری پر گامزن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے پر عزم ہے، توانائی اور انفراسٹرکچر سے متعلق ہمارے بعض منصوبوں کی تکمیل مجموعی طور پر ہماری معیشت کیلئے سود مند ثابت ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے چین پاک اقتصادی راہداری پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے سی پیک اتھارٹی قائم کر دی ہے، ہم اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جس میں ہماری توجہ صنعت سازی اور معاشرتی و اقتصادی ترقی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 9 اقتصادی زونز قائم کرنے جا رہے ہیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولت ملے، پاکستان سمجھتا ہے کہ گھمبیر اقتصادی چیلنجز سے نمٹنا کسی ایک ریاست کے بس کی بات نہیں اس لئے ہم بی آر آئی بی جیسے منصوبوں کی تکمیل کے سب سے بڑے حامی ہیں، یہ منصوبہ انسانیت کیلئے سود مند ثابت ہو گا۔








