ایوان صدر میں خصوصی تقریب، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترکی کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل یاسر گلیر کو نشان امتیاز ملٹری دیا

اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترکی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل یاسر گلیر کو نشان امتیاز ملٹری دے دیا۔ بدھ کو ایوان صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں ترکی کے چیف آف جنرل سٹاف کو یہ اعزاز دیا گیا۔ بعد ازاں جنرل یاسر گلیر نے وفد کے ہمراہ صدر مملکت سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر مملکت …

اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترکی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل یاسر گلیر کو نشان امتیاز ملٹری دے دیا۔ بدھ کو ایوان صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں ترکی کے چیف آف جنرل سٹاف کو یہ اعزاز دیا گیا۔ بعد ازاں جنرل یاسر گلیر نے وفد کے ہمراہ صدر مملکت سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر مملکت نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی پاکستان اور ترکی کے درمیان مذہبی اور ثقافتی ورثہ پر محیط گہرے اور بے مثال تعلقات ہیں جو اب کئی سالوں سے مضبوط تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہوچکے ہیں اور مضبوط تر ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ترکی اور ملائیشیا کے اشتراک سے انگریزی ٹی وی چینل کا اقدام عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے ایک اہم سنگ میل ہو گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے، تنازعہ کشمیر بالخصوص اقوام متحدہ میں ترکی کی جانب سے تعاون قابل تعریف ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مسلح افواج کے ظلم و ستم پر پاکستان کی تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کی حکومت سے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد کے حالات پر ہمیں گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے مثبت کردار ادا کرے۔ صدر ملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی ایک ایک دوسرے کے ساتھ ہر فورم پر تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلوں سے اس میں اضافہ ہوگا۔ صدر مملکت نے زور دیا کہ وہ دفاعی شعبہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ترکی کی حکومت کی جانب سے نیوکلیئر سپلائر گروپ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات میںاس کی پوزیشن پر پاکستان کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ملکوں میں دو طرفہ تجارت صحیح استعداد کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترکی کی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے تاہم مکمل دو طرفہ تجارتی صلاحیت کا ادراک کرتے ہوئے اس میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر جنرل یاسر نے کہاکہ تنازعہ کشمیر پر ترکی پاکستان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس تنازعہ کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

مزید خبریں