اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، پالیسیوں میں تسلسل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا، پاکستان میں خطے میں سب سے زیادہ ترقی کی صلاحیت ہے، کرپشن نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں برآمد کنندگان میں سیلز …
وزیراعظم عمران خان کا برآمد کنندگان میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، پالیسیوں میں تسلسل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا، پاکستان میں خطے میں سب سے زیادہ ترقی کی صلاحیت ہے، کرپشن نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں برآمد کنندگان میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا منصب سنبھالا تو سب سے بڑا مسئلہ 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ تھا، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر نہیں تھے، لوگ ڈالرز میں ٹرانزیکشن کر رہے تھے، کرنسی کی قدر کم ہو رہی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم کی کوششوں کے باعث روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے، برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن ملک میں پالیسیاں ٹھیک ہوں گی اور لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ہماری پالیسیاں مستقل ہیں اور ملک ایڈہاک ازم سے نہیں چلے گا تو اس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گئے ہیں، انہوں نے کوئی غیر معمولی ترقی نہیں کی بلکہ ہم پیچھے چلے گئے ہیں، موجودہ حکومت طویل مدتی پالیسیوں پر عمل کرے گی۔ چین نے طویل مدتی پالیسیوں کے ذریعے کامیابی حاصل کی، چین کے پاس غربت کے خاتمے کے حوالے سے اعداد و شمار موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات میں سیاسی فوائد کے لئے میٹرو بس جیسے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں، چین نے استحکام، پیداواریت اور انسانی ترقی پر توجہ کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک خسارے میں ہو، ڈالر باہر زیادہ جا رہے ہوں اور ملک میں کم آ رہے ہوں تو اس سے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ زیادہ ہو جاتا ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بڑھنے سے روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی بار کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سرپلس میں ہے، ملک میں دولت کی پیداوار نہیں ہوتی تو ملک قرضے واپس نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صنعتوں کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے، سمگلنگ روکنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے کیونکہ سمگلنگ سے صنعتیں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری میں ٹیکس کلچر کے فروغ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا ہے جس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی مبارکباد کے مستحق ہیں، تاجر ملکی مفاد میں رجسٹریشن کے عمل میں شریک ہوں، ہم صنعتوں کے فروغ اور زیادہ ٹیکس جمع کر کے عوام پر خرچ کرنا چاہتے ہیں، چینی ماڈل بھی یہی تھا اور اسے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سونا، چاندی، تانبے جیسے قدرتی وسائل سے نوازا ہے، پاکستان ریکوڈک جیسی نعمتوں سے مالا مال ہے، صرف 2 کانوں کا منافع 100 ارب روپے بنتا ہے، کارکے مقدمے میں ترکی کے صدر طیب اردوان کی کوششوں سے 170 ارب روپے بچائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن نے ہمیں نقصان پہنچایا، اگر کرپشن نہ ہوتی تو ریکوڈک جیسے منصوبوں سے سالانہ اربوں روپے حاصل ہوتے، اس سے بلوچستان سمیت پورا ملک ترقی کرتا۔








