صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا انسٹیٹیوٹ فار سٹرٹیجک تھنکنگ اور لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ کے اشتراک سے ہونے والی کانفرنس سے خطاب

انقرہ ۔ 20 نومبر (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ترکی کو دنیا کی ا±بھرتی ہوئی طاقت اور نشاة ثانیہ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی تنازعہ کشمیر کو حل کرانے اور کشمیریوں کو ظلم کی اندھیری رات سے نکالنے کےلئے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرے تو پاکستان کی حکومت اور جموں و کشمیر کے عوام اس کا …

انقرہ ۔ 20 نومبر (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ترکی کو دنیا کی ا±بھرتی ہوئی طاقت اور نشاة ثانیہ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی تنازعہ کشمیر کو حل کرانے اور کشمیریوں کو ظلم کی اندھیری رات سے نکالنے کےلئے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرے تو پاکستان کی حکومت اور جموں و کشمیر کے عوام اس کا خیرمقدم کریں گے۔ انقرہ میں قائم انسٹیٹیوٹ فار سٹرٹیجک تھنکنگ اور لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ کے اشتراک سے ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا اسلام آباد، نئی دہلی اور حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے بھرپور وکالت کرنے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور ا±ن کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس سے لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ کے چیئرمین شمشاد احمد اور ترکش انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک تھنکنگ کے صدر محمد سواس، مصر کے سابق وزیر یحییٰ امین، لارڈ انذیر احمد، سینیٹر شیری رحمان و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم ترکی کے صدر کے اس موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر بغیر کسی تصادم کے انصاف اور مساوات کے ا±صولوں کے مطابق مذاکراتی عمل سے حل ہونا چاہیے۔ ہم صدر رجب طیب اردگان کے اس مو¿قف کی بھی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل بند کرکے کثیر الجہتی سفارت کاری کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا جائے۔ ا±نہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط رشتوں کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا ترکی کے ساتھ ایک خصوصی رشتہ ہے کیونکہ ترکی وہ پہلا ملک ہے جو 2005ء کے زلزلہ کے بعد سب سے پہلے آزاد کشمیر کے عوام کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے آگے بڑ ھا اور ترکی کی حکومت نے متاثرین کے لئے سکول، دفاتر اور شفاخانے تعمیر کرکے آزاد کشمیر کے شہروں، قصبوں اور لوگوں کے دلوں میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ کشمیر کو جنت ارضی کا یک ٹکڑا قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آج اس جنت نظیر سر زمین کو جہنم میں بدل دیا گیا جہاں صرف انسان ہی نہیں بلکہ پہاڑوں، وادیوں، دریاو¿ں اور جنگلات کو بھی بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ کشمیر کی پوری آبادی بیڑیوں اور زنجیروں سے بندھی ہوئی ہے، شہری اپنے ہی وطن میں اور اپنے گھروں میں قید ہیں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ آزادانہ طور پر نہیں جا سکتے وہ ایک دوسرے کو پکار نہیں سکتے اور نہ ہی ظلم کے خلاف کوئی آہ و پکار کر سکتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں خاموشی کا راج ہے کیونکہ بھارت کشمیریوں کو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ مقبوضہ ریاست میں شہریوں کو شہید، بصارت سے محروم اور معذور کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو گرفتار کرکے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ا±ن میں کئی لا پتہ ہیں جن کے بارے میں ا±ن کے والدین کچھ نہیں جانتے۔ ا±نہوں نے کہا کہ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں مال غنیمت سمجھ کر ا±ن کی عزت و حرمت کو لوٹا جا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی پوری سیاسی قیادت جیلوں میں ہے۔ نوجوانوں کو گرفتار کرکے اور ا±ن پر غیر انسانی تشدد کر کے خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے اوراس سارے عمل کو جینو سائیڈ واچ نے کشمیریوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ صرف ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ دنیا کا میڈیا پورے ثبوت کے ساتھ یہ تمام واقعات بیان کر رہا ہے اور یہی واقعات ترکی کا میڈیا بھی پوری وضاحت کے ساتھ رپورٹ کر رہا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پانچ اگست کو بھارت کی حکومت نے بیک جنبش قلم کشمیریوں کے صدیوں پرانے حقوق چھین کر کشمیر کو اپنی کالونی بنانے کا عمل شروع کر دیا اور ایسے قوانین لائے جا رہے ہیں جن کے تحت مقامی کشمیریوں کی زمینوں غیر کشمیری بھا رتیوں کو آباد کرکے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے گا۔ ا±نہوں نے کہا کہ پوری دنیا بھارت کی فسطائیت پر چیخ رہی ہے۔ عالمی میڈیا اور مختلف ممالک کی پارلیمان بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دے رہے ہیں، دنیا کشمیریوں کے لئے شہری آزادیوں، بنیادی حقوق اور ا±ن کے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہی ہے، برطانیہ، فرانس اور یورپین پارلیمنٹ اور امریکی کانگریس نے اجلاس منعقد کر کے کشمیر پر بحث کی اور ابھی حال ہی میں امریکہ کے ٹام لینٹس کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے 31 اکتوبر کے اعلانات کو مسترد کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کشمیر کی نئی سرحدیں اور جعلی نقشے نا قابل قبول ہیں کیونکہ یہ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور دہلی کے حکمران پاکستان کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ خطہ میں جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ خطہ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ صرف یہ نہیں بلکہ بھارت کی قابض فوج روزانہ لائن آف کنٹرول کے پار سے آزاد کشمیر کے شہریوں پر بلا اشتعال گولہ باری کر کے بے گناہ انسانوں کے جان و مال سے کھیل رہی ہے اور کلسٹر ایمونیشن استعمال کر کے بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس سال لائن آف کنٹرول پر پانچ لاکھ چالیس ہزار کی آبادی میں سے پچاس شہری شہید اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ بھارت کا یہ طرز عمل غیر ذمہ دارانہ، جارحانہ اور تباہ کن ہے لیکن بد قسمتی سے ایک طرف دنیا ان مظالم پر چیخ رہی ہے تو دوسری طرف بھارت کے ہندو انتہا پسند اسے اپنی فتح قرار دے کر اس کا جشن منا رہے ہیں۔