وفاقی وزیر شفقت محمود کا اکادمی ادبیات پاکستان میں قومی شاعر علامہ اقبال کے سلسلہ میں تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم و فنی تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ شفقت محمود نے کہا ہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم کی پہلی تقریب اقبال کے حوالہ سے ہو رہی ہے، یقیناً فیض کی روح کو آج خوشی محسوس ہو رہی ہو گی کیونکہ فیض احمد فیض، علامہ اقبال سے بہت عقیدت اور محبت …

اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم و فنی تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ شفقت محمود نے کہا ہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم کی پہلی تقریب اقبال کے حوالہ سے ہو رہی ہے، یقیناً فیض کی روح کو آج خوشی محسوس ہو رہی ہو گی کیونکہ فیض احمد فیض، علامہ اقبال سے بہت عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان میں قومی شاعر علامہ اقبال کے سلسلہ میں 5روزہ افتتاحی تقریب سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔افتتاحی اجلاس کی مجلس صدارت میں پروفیسر فتح محمد ملک (اسلام آباد)، اسلم کمال (پنجاب)، یوسف شاہین (سندھ)، یوسف گچکی (بلوچستان)، پروفیسرگوہر نوید (خیبرپختونخوا) اور سینیٹر ولید اقبال شامل تھے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا کہان پانچ دنوں میں اقبال کی فکر اور ان کے پیغام کے حوالہ سے اہم پروگرام رکھے گئے ہیں جن میں نامور ماہرین اقبال اور دانشوروں کی گفتگو اور شرکت سے نوجوان مستفید ہوں گے۔ چےئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر انعا م الحق جاوید نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی تاریخ میں فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی یہ پہلی تقریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کا ممنوں ہوں کہ انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا اور ان تقریبات کے سلسلہ میں ہمیں رہنمائی فراہم کی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر ندیم شفیق ملک کا بھی شکریہ ادکیا اور کہا کہ ان کی مشاورت اور رہنمائی نے ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ اقبال کا کلام اور پیغام ہمارے لئے فکری، علمی اور تہذیبی سرمایہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر اقبال کو اپنا شاعر مانتے ہیں۔ علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ اقبال کے ہاں سب سے زیادہ انسانی اتحاد، انسانی مساوات اور انسان کی آزادی پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے 9 نومبر کو سکھوں کےلئے راہداری کھولی، اس کی وجہ یہی تھی کہ علامہ اقبال نے بھی باباگرونانک کے فلسفہ¿ وحدت کے حوالے سے کئی نظمیں لکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً اس راہداری کے کھلنے سے دونوں قوموں میں محبت اور رواداری کی فضاءقائم ہو گی۔ سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ آج اکادمی کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں اقبال کے حوالے سے ان تقریبات کا انعقاد قابل فخر بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں علم و ادب کو فروغ دینے کےلئے کوشاںہے۔ مہمان خصوصی شفقت محمود کو اکادمی ادبیات پاکستان کی شائع شدہ علامہ اقبال کی کتابوں کا سیٹ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نامور دانشور یوسف گچکی نے مجلس صدارت کے ارکان کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش کیا۔ آخر میں لکی بُک ڈرا کے ذرےعے شفقت محمود، ڈاکٹر ندیم شفیق ملک اور سینیٹر ولید اقبال نے قرعے نکالے اور تین خوش نصیبوں کو 1000 روپے مالیت کی کتب دینے کا مستحق قرار دیا گیا۔ اس تقریب میں راولپنڈی/اسلام آباد اور گردونواح کے سینیئر اہل قلم، شاعروں، ادیبوں اور آرٹسٹوں نے شرکت کی۔ اس موقع پرعلامہ اقبال کے حوالہ سے خطاطی اور پینٹنگز کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تقریبات میں بچوں کے حوالے سے مختلف پروگرام بھی پیش کئے گئے۔ اس موقع پر بک فےئر کا بھی اہتما م کیا گیا جس میں علامہ اقبال پر کتابوں کو نمایاں طور پر رکھا گیا ہے اور ان پر 40 فیصد رعایت دی جا رہی ہے۔