سرینگر۔ 05دسمبر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں جمعرات کو مسلسل 123 ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ اوردیگر پابندیا ںجاری رہنے کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول بدستور قائم ہے اور لوگوں میں شدید غم و غصہ پایاجاتا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد کی تعیناتی کے علاوہ دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ ہیں۔ خاص طور …
مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی محاصرہ اورپابندیاں مسلسل 123 ویں روز بھی جاری

مزید خبریں
سرینگر۔ 05دسمبر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں جمعرات کو مسلسل 123 ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ اوردیگر پابندیا ںجاری رہنے کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول بدستور قائم ہے اور لوگوں میں شدید غم و غصہ پایاجاتا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد کی تعیناتی کے علاوہ دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ ہیں۔ خاص طور پر وادی کشمیر کے آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگوںکو مسلسل لاک ڈائون کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل فون اور ایس ایم ایس سروسز مسلسل معطل ہیں۔ انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی کی وجہ سے لوگوں کا نہ صرف اپنے گردونواح بلکہ دنیا بھرسے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ اس سے تاجر، طلباء اور صحافی بری طرح متاثرہوئے ہیں۔وادی کشمیر میں لوگ سول نافرمانی کی تحریک کے تحت بھارت کے کشمیر مخالف اقدامات کے خلاف ناراضگی اور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران لوگ اپنے کاروبار بند رکھتے ہیں اور اسکولوں اور دفاتر سے دور رہتے ہیں۔ صبح اور شام میں صرف چند گھنٹوں کے لئے ہی دکانیں کھلتی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بڑی حد تک معطل ہے۔ادھر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے بین الاقوامی اتحاد ، سِیوکس مانیٹر نے شہری آزادیوںسے متعلق درجہ بندی میںبھارت کی پوزیشن میں تنزلی کر دی ہے۔ سِیوکس مانیٹر نے ”عوام کی طاقت پر حملہ ”کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے علمبرداروںکے خلاف کریک ڈائون، صحافیوںاور سول سوسائٹی کے گروپوں پر حملوں اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ درجہ بندی میں تنزلی سے ظاہرہوتا ہے کہ اظہار رائے اور پر امن احتجاج سمیت جمہوری آزادیوں میں نمایاں طورپر کمی آئی ہے۔








