اسلام آباد ۔ 9 دسمبر (اے پی پی)انسداد بدعنوانی کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ ہم بدعنوانی کے خلاف متحد ہیں اور یہ دن اقوام متحدہ کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف قرارداد کو اختیار کرنے کی 15ویں سالگرہ کے طور پر بھی منایا گیا۔ یہ دن پائیدار ترقی کے اہداف 2030ءکو مقدم رکھتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف عالمی جنگ کی حوصلہ افزائی کا بھی دن …
انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر نیب، انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ اور بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے کام کرنے والے دیگر اداروں کا خصوصی پروگرامز، سیمینارز اور واکس کا اہتمام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 دسمبر (اے پی پی)انسداد بدعنوانی کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ ہم بدعنوانی کے خلاف متحد ہیں اور یہ دن اقوام متحدہ کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف قرارداد کو اختیار کرنے کی 15ویں سالگرہ کے طور پر بھی منایا گیا۔ یہ دن پائیدار ترقی کے اہداف 2030ءکو مقدم رکھتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف عالمی جنگ کی حوصلہ افزائی کا بھی دن ہے۔ اس موقع پر آگاہی کو مزید فروغ دینے اور بدعنوانی کے خطرناک اثرات کو اجاگر کرنے کے علاوہ تمام ممالک کو بدعنوانی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب)، انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) اور بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے کام کرنے والے دیگر اداروں نے اس موقع پر خصوصی پروگرامز، سیمینارز اور واکس کا اہتمام کیا۔ انسداد بدعنوانی دن کے موقع پر عوام الناس میں مو¿ثر آگاہی اور بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے اثرات سے عوام الناس کو آگاہ کرنے کےلئے مختلف اداروں کی طرف سے پروگراموں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ کے پیغام کو عام کرنے کےلئے خصوصی ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں جبکہ بدعنوانی کے موضوع کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے گئے اور آگاہی کے حوالے سے پوسٹرز، اشتہارات اور دیگر مواد بھی تقسیم کیا گیا۔ بدعنوانی ایک سنگین جرم ہے جو تمام معاشروں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے زہر قاتل ہے اور کوئی ملک، خطہ یا قوم اس کی موجودگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔ رواں سال اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی روک تھام اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے مشترکہ عالمی مہم تیار کی تھی کہ کس طرح بدعنوانی تعلیم، صحت، انصاف، جہوریت، ترقی و خوشحالی کو متاثر کرتی ہے۔ ہر سال پوری دنیا میں ایک کھرب ڈالر رشوت کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ 2.6 کھرب ڈالر خوردبرد کر دیئے جاتے ہیں جو عالمی مجموعی پیداوار کی شرح کے 5 فیصد سے زائد کے مساوی رقم ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں بدعنوانی کی نظر ہونے والے فنڈز کا تخمینہ اصل ترقیاتی معاونت کی رقم کا 10گنا لگایا گیا ہے۔ 2017ءمیں مشترکہ بین الاقوامی مہم کا محور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بدعنوانی کو سب سے بڑی رکاوٹ رکھا گیا تھا۔ 31اکتوبر 2003ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدعنوانی کے خلاف کنونشن کو اختیار کیا اور 9 دسمبر کو بدعنوانی کے خلاف عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا، یہ کنونشن دسمبر 2005ءسے نافذ العمل ہے۔ حکومتیں، نجی شعبہ، غیرسرکاری ادارے، میڈیا اور شہری اس جرم کے خلاف جنگ کےلئے متحد ہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریز نے بدعنوانی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر عوام الناس پر زور دیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں بدعنوانی کے خلاف جنگ کی کامیابی میں اپنا تعمیری کردارادا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قیمتی وسائل دنیا کے عوام پر خرچ ہوں گے۔








