قومی اسمبلی نے بھارت کی جانب سے منظور کئے گئے سٹیزن شپ ترمیمی بل 2019ءکو امتیازی قانون قرار دیکر اس کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) قومی اسمبلی نے بھارت کی جانب سے منظور کئے گئے سٹیزن شپ ترمیمی بل 2019ءکو امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ اس قانون کو بی جے پی کے ہندو انتہا پسندی کا نظریہ ‘ انسانی حقوق کے عالمی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر …

اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) قومی اسمبلی نے بھارت کی جانب سے منظور کئے گئے سٹیزن شپ ترمیمی بل 2019ءکو امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ اس قانون کو بی جے پی کے ہندو انتہا پسندی کا نظریہ ‘ انسانی حقوق کے عالمی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت پر دباﺅ ڈالے کہ وہ یہ قانون واپس لے ‘ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر شفقت محمود نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اس قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی اقلیتیوں بالخصوص مسلم طلباءپر تشدد قابل مذمت ہے‘ مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ قابض بھارتی فوجی چار ماہ سے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو محاصرے میں رکھے ہوئے ہیں ڈیموگرافی میں جبری تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کے لئے ہے اور پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے حمایت جاری رکھے گا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے شہریت کے امتیازی قانون 2019ءکی یہ ایوان مذمت کرتا ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے‘ یہ قانون خطرناک ہندو انتہا پسندی کے بھارتی عزائم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ قانون انسانی حقوق کے عالمی قوانین اور ممالک کے درمیان دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کی عکاسی ہوتی ہے جس کے تحت اقلیتوں پر ہندو جتھوں کی صورت میں تشدد کرتے ہیں۔ یہ اقدام وشوا ہندو پریشد کی پالیسی کا نتیجہ ہے اور اسی کے تحت گھر واپسی اور لو جہاد کے نعرے بلند کئے جارہے ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقلیتیوں کے حقوق کو تحفظ دیا جائے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کو 9 لاکھ بھارتی قابض افواج نے چار ماہ سے محاصرے میں لے رکھا ہے اور قوانین کی تبدیلی سے یہاں ڈیموگرافی میں جبری تبدیلی کی جارہی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کی جدوجہد ہے اور پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے حل کے لئے سیاسی‘ سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ یہ اقدامات آر ایس ایس کے فلسفے کے مطابق ہیں۔ آسام میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف اقدامات قابل مذمت ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت سمیت دیگر اقدامات ہندو توا کے نظریے کی جانب قدم ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اس امتیازی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی اقلیتیوں بالخصوص مسلم طلباءپر تشدد قابل مذمت ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں اقلیتیوں کو تحفظ نہ دیئے جانے کا تاثر قابل مذمت ہے۔ پاکستان میں اقلیتیں مساوی شہری ہیں اور وہ اجتماعی قومی ترقی میں برابری کی بنیاد پر بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقلیتیوں کو پاکستان میں قومی دھارے میں لانے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ قرارداد میں اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارت پر زور دیں کہ وہ ان کالے قوانین کا خاتمہ کرے‘ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرے۔ پرامن احتجاج کرنے والے مسلم طلباءاور دیگر پر کریک ڈاﺅن سے گرفتار کئے جانے والوں کو رہا کیا جائے۔ سپیکر نے قرارداد ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طور پر قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔