رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کی نسبت ترقیاتی اخراجات میں 27 فیصد اضافہ ہوا،وفاقی وزارت خزانہ

اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کی نسبت ترقیاتی اخراجات میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ چاروں صوبوں میں جاری ترقیاتی کاموں کے اخراجات 24 ارب اضافے کے ساتھ 112 ارب تک پہنچ گئے ہیں، گزشتہ سال کے اس عرصہ کے دوران یہ اخراجات 88 ارب تھے۔ وزارت …

اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کی نسبت ترقیاتی اخراجات میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ چاروں صوبوں میں جاری ترقیاتی کاموں کے اخراجات 24 ارب اضافے کے ساتھ 112 ارب تک پہنچ گئے ہیں، گزشتہ سال کے اس عرصہ کے دوران یہ اخراجات 88 ارب تھے۔ وزارت خزانہ حکام کی جانب سے جاری بیان میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے تناظر میں بچ جانے والی اضافی رقم وفاقی حکومت کو واپس کئے جانے سے متعلق گردش کردہ خبروں کی تردید کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ حکام نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے 202 ارب روپے وفاق کو واپس کئے جانے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں اس قسم کی میڈیا رپورٹس کو غلط، گمراہ کن اور اسے حقائق سے منافی قرار دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب ایسی کوئی رقم وفاق کو سرپلس کی مد میں نہیں بھیجی گئی۔ وزارت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبوں کا سرپلس جولائی سے ستمبر 2019ءکے دوران 190 ارب ہے۔ فنانس ڈویژن کی جانب سے کہا گیا کہ وفاق کی طرف سے این ایف سی قواعد و ضوابط کے مطابق صوبوں کو سٹیٹ بینک کے ذریعے ترقیاتی فنڈز بھیجے جاتے ہیں، وفاق کی جانب سے فنڈز بھیجے جانے کے بعد یہ رقم صوبوں کے سٹیٹ بینک میں موجود اپنے الگ سے اکاﺅنٹ میں جمع رہتی ہے۔ وزارت خزانہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت خزانہ ریاست پاکستان کے مالی امور کے لئے (وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں) کے لئے مربوط اور سہ ماہی بنیادوں پر اعداد و شمار اکٹھے کرتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رقوم کے توازن کی صورتحال کو انتہائی مربوط انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ مربوط طریقوں سے فاضل رقوم کی صورتحال کے ذریعے حکومت کی مالی سال کی پالیسی کو چلانے میں مدد ملتی ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا صوبائی اخراجات کی منصوبہ بندی یا ان کے اخراجات میں کوئی کردار نہیں ہے، گزشتہ مالی سال کے اس عرصے کے لئے صوبائی سرپلس 199 ارب روپے تھا۔