اسلام آباد ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشنز اینڈ کوارڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ سال پندرہ ملین غریب خاندانوں کو صحت سہولت کارڈ دے گی، نابینا افراد پر بروقت توجہ دینے سے بینائی میں کمی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، معیشت درست سمت پر گامزن ہے، ہمارے نظریے کا پہلا حصہ یورنیورسل ہیلتھ کیئر …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ ڈاکٹر ظفر مرزا کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشنز اینڈ کوارڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ سال پندرہ ملین غریب خاندانوں کو صحت سہولت کارڈ دے گی، نابینا افراد پر بروقت توجہ دینے سے بینائی میں کمی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، معیشت درست سمت پر گامزن ہے، ہمارے نظریے کا پہلا حصہ یورنیورسل ہیلتھ کیئر اور دوسرا بنیادی صحت کے حوالے سے ہے، معاشرے میں 50 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، پاکستان میں کامیابی کے ساتھ آنکھوں کے عطیات کی مہم سے ہم اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں ذیابیطس کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد بینائی کی کمی کا شکار ہیں، پاکستان کی کل آبادی کا 0.9 فیصہ حصہ بینائی سے محروم ہے، بروقت توجہ دینے سے بینائی میں کمی جیسے مسائل پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان بارہ ملکوں میں شامل ہے جہاں آنکھوں کا موثر علاج ہوتا ہے، حکومت نے تحصیل سطح پر آئی کیئر پروگرام متعارف کرایا ہے، 18ویں ترمیم کے بعد نیشنل ہیلتھ پروگرام متاثر ہوا۔ ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا نے کہا کہ پاکستان کے صحت میں حالات بہت خراب ہیں، دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد بینائی کی کمی کا شکار ہیں، بلائنڈ لوگوں کی وقت پہ تشحیص ہو جائے تو وہ اس مرض سے بچ سکتے ہیں،2004ءمیں بلائنڈ لوگوں کی تعداد اعشاریہ نو فیصد رہی جس میں اسی فیصد علاج کے قابل مریض تھے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس فیصد اندھے پن کی وجہ موتیا تھا، پاکستان کا شمار ان بارہ ممالک میں ہے جہاں موتیا سے اندھے پن کا علاج کیا جاتا ہے۔ اسلامی ممالک میں پاکستان میں موتیا کے علاج میں پہلے نمبر پہ ہے، ہمارے سے اوپر گیارہ ممالک تمام غیر مسلم ممالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پبلک پارٹنرز کا مشکور ہوں، ہماری معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے، حکومت نے احساس کا پروگرام شروع کیا، اسی طرح غذائیت کا پروگرام کا بھی آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریہ کا پہلا حصہ یونیورسل ہیلتھ کیئر اور دوسرا بنیادی صحت کے حوالے سے ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ٹریننگ دیں کہ وہ لوگوں میں آنکھوں کی حفاظت سے متعلق آگاہی دیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پچاس فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، پندرہ ملین غریب خاندانوں کو آئندہ سال صحت سہولت کارڈ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کامیابی کے ساتھ آنکھوں کی عطیات کی مہم سے ہم اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔







