وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات زاہدہ پروین کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ

اسلام آباد ۔ 23 دسمبر (اے پی پی) وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات زاہدہ پروین نے کہا ہے کہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کی ڈیجیٹل منتقلی کی پالیسی اگلے ہفتے کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی تاکہ براڈکاسٹر کے نشریاتی نظام کو اینالاگ سے ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے …

اسلام آباد ۔ 23 دسمبر (اے پی پی) وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات زاہدہ پروین نے کہا ہے کہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کی ڈیجیٹل منتقلی کی پالیسی اگلے ہفتے کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی تاکہ براڈکاسٹر کے نشریاتی نظام کو اینالاگ سے ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران کیا جو پیر کو یہاں کمیٹی کے کنوینر سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریڈیو پاکستان میں جاری اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذیلی کمیٹی کے اراکین رکن قومی اسمبلی عثمان خان ترکئی اور مائزہ حمید نے بھی شرکت کی۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ ریڈیو پاکستان کی ڈیجیٹل نظام پر منتقلی 6 سال کے دوران تین مراحل میں کی جائے گی جس پر 3.995 ارب روپے لاگت آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے بھارت نے ریڈیو پاکستان کی فریکوینسی میں تجاوز شروع کیا ہے تب سے ریڈیو کی نئی ڈیجیٹل پالیسی کی اہمیت بڑھ گئی تھی تاکہ سامعین کی تعداد مین اضافے کے ساتھ ساتھ ملکی بیانیہ کی کوریج اور اسے پروان چڑھانے میں جدت لائی جا سکے۔کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آل انڈیا ریڈیو نے ڈیجیٹل مینجمنٹ کوریج کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور تکمیل کے بعد 70 فیصد سے زیادہ بھارت اور سرحدی علاقوں کا 30 ڈی آر ایم نشریاتی اسٹیشنوں کے ذریعے احاطہ کرسکے گا، لہذا پاکستان کو بھی اپنے ریڈیو اسٹیشنوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان ثمینہ وقار نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پہلے مرحلے میں اس کا آغاز ہو گا جس پر 42 ملین روپے خرچ کئے جائیں گے، ڈیجیٹل براڈکاسٹ کا پائلٹ پراجیکٹ ایک سال کے دوران مکمل ہو جائے گا۔اس مرحلے کے دوران 1000 کلو واٹ ڈیجیٹل رائٹس مینجمنٹ(ڈی آر ایم)، ایف ایم سٹیشن اسلام آباد، 400 کلو واٹ ڈیجیٹل اے ایم سٹیشن پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 100 کلو واٹ سٹیشن کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ دوسرا مرحلہ تین سال میں مکمل ہو گا جس پر 3153 ملین روپے لاگت آئے گی اس مرحلہ میں 1000 کلو واٹ ڈیجیٹل سٹیشن ضلع ڈیرہ غازی خان میں فورٹ مونروئی کے مقام پر قائم کیا جائے گا جو چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو کور کرے گا۔ 13 ڈی آر ایم 5 کلو واٹ کے 10 ایف ایم سٹیشن بھی فنڈز کی دستیابی کے بعد اس مرحلے میں قائم کئے جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں لاہور، سکردو، کوئٹہ اور پشاور میں 800 ملین روپے کی لاگت سے 100 کلو واٹ ڈیجیٹل اے ایم سٹیشن قائم کئے جائیں گے جو ملکی تذویراتی ضروریات کے پیش نظر قائم کئے جا رہے ہیں۔ ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ریڈیو پاکستان کی ٹیکنالوجی پر منتقلی سے نشریات اینالاگ سے ڈیجیٹل پر منتقل ہو جائے گی، ایک ٹرانسمیٹر کے ذریعے چار چینل چلائے جا سکیں گے جس سے آواز کا معیار بھی مکمل شفاف ہو گا۔ اس اقدام سے ریڈیو پاکستان کے پیشہ ورانہ اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ نئی ٹیکنالوجی اے ایم اور ایف ایم کے بند رسیورز کو تبدیل کرنے کے لئے بھی درکار ہے جو اب مارکیٹ میں دستیاب نہیں ۔ نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی کاروں کو بھی ڈی آر ایم رسیورز کے ساتھ لیس کیا جائے گا ، مقامی اسمبل کنندگان اور تیار کنندگان موبائل فونز میں ڈی آر ایم گنجائش کے ذریعے منتقل ہو جائیں گی۔ ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان اس وقت اپنے 83 فیصد فنڈز ملازمین کی تنخواہ اور پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے۔ کمیٹی کے کنوینئر امین الحق نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کو نجی شعبہ کے اشتراک کار میں بھی داخل ہونا چاہیے اور جاپان سے امداد کی شکل میں گرانٹ حاصل کرنی چاہیے جس کی دلچسپی کا اظہار جاپان کی طرف سے کیا گیا ہے۔ کمیٹی اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی پر عملدرآمد میں شفافیت لائی جائے اور اسے مقررہ مدت کے دوران مکمل کیا جائے۔

مزید خبریں