ریاض ۔ 23 دسمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیر کو یہاں سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین سے ملاقات کی جس میں سعودی شوریٰ کونسل اور قومی اسمبلی کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ اور مسئلہ کشمیر کے حل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں قومی اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔ …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ محمد ابراہیم الشیخ سے ملاقات

مزید خبریں
ریاض ۔ 23 دسمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیر کو یہاں سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین سے ملاقات کی جس میں سعودی شوریٰ کونسل اور قومی اسمبلی کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ اور مسئلہ کشمیر کے حل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں قومی اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں عالم اسلام کو درپیش چیلنجز تبادلہ خیال کیاگیا اور سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ اور سپیکر کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالم اسلام میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہمیں مغرب میں اسلامو فوبیا جیسے بڑھتے ہوئے رحجان کا مل کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ خطہ میں تمام تنازعات کا پرامن حل نکلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر جنوب ایشیاءکے امن کےلئے کشمیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کو بھارتی افواج کی مقبوضہ کشمیر میں چیرہ دستیوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور کہا کہ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات نے تمام بھارتی اقلیتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی کو مسئلہ کشمیر کے حل اور مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا جیسے رحجان کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے سعودی ہم منصب کو آئندہ سال کے اوائل میں عالمی کشمیر کانفرنس کے اسلام آباد میں انعقاد کے حوالہ سے تفصیلات سے بھی آگاہ کیا اور کانفرنس کے انعقاد کے حوالہ سے سعودی عرب کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری کو بھارت کی جانب سے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم سے بھی آگاہ کرنے کا موقع ملے گا۔ سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ محمد ابراہیم الشیخ نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اور شوریٰ کونسل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیر میں اپنی چیرہ دستیاں بند کر دینی چاہئے اور کشمیریوں کو ان کا آئینی حق دینا چاہئے۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ او آئی سی مسئلہ کشمیر کے عالمی معاہدوں کے مطابق حل کےلئے بھارت پر دباﺅ ڈالنے کیلئے کردار ادا کر سکتی ہے۔ بعد ازاں پاکستانی وفد نے سعودی مجلس شوریٰ کا دورہ کیا اور اس موقع پر قومی اسمبلی اور سعودی مجلس شوریٰ کے درمیان پالیمانی تعاون کے فروغ کے حوالہ سے ایک مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کئے۔







