اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ حکومت نیب سمیت کسی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، لوٹ کھسوٹ، منی لانڈرنگ کرنے والوں اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف احتساب کا عمل جاری ہے، ملک کو آگے لیکر جانے کا واحد راستہ احتساب ہے، 2008ءسے 2018ءکے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم …
پی ٹی آئی سینیٹر فیصل جاوید کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ حکومت نیب سمیت کسی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، لوٹ کھسوٹ، منی لانڈرنگ کرنے والوں اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف احتساب کا عمل جاری ہے، ملک کو آگے لیکر جانے کا واحد راستہ احتساب ہے، 2008ءسے 2018ءکے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ملک میں ریکارڈ کرپشن ہوئی ہے، حکومت ملک سے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کی لعنت کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات کا کیس سنگین ہے، غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ بغیر ثبوت کے گرفتاری کی گئی، رانا ثناءاللہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں، وہ ضمانت پر رہا ہوئے ہیں، بری نہیں ہوئے۔ فیصل جاوید نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے، ن لیگ کا مسئلہ یہ ہے کہ جب ان کے حق میں فیصلے آتے ہیں تو یہ مٹھائیاں تقسیم کرنا شروع کر دیتے ہیں، اگر عدالت کا فیصلہ ان کے خلاف آئے تو یہ عدالتوں پر الزام تراشیاں اور حملے کرنا شروع کر دیتے ہیں، ن لیگ ماضی میں عملی طور پر بھی عدالتوں پر حملے میں ملوث رہی ہے۔ پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں نے اقتدار میں آ کر دونوں ہاتھوں سے قومی خزانے کو لوٹا، یہ لوگ امیر ہوئے، ان کے اثاثے اور بیرون ملک جائیدادیں اوپر گئیں اور دوسری جانب عوام غریب ہوئی لیکن پی ٹی آئی حکومت ملک سے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین پر کرپشن کے الزامات لگے تو انہوں نے عہدے چھوڑ کر خود کو احتساب کیلئے پیش کیا، عدالتوں سے کلیئر ہونے کے بعد انہیں دوبارہ حکومت کا حصہ بنایا گیا۔ فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پی پی پی کے قائدین اور رہنما جیل جاتے ہیں تو بیمار ہو جاتے ہیں، ضمانتیں ملتے ہی مکمل فٹ ہو جاتے ہیں۔







