اسلام آباد ۔ 25 دسمبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 2008ءسے 2018ءکے دوران میثاق کرپشن کے ذریعے ملک کے خزانے کو بے دردی سے لوٹ کر اپنے خزانے بھرے اور بیرون ممالک میں اپنی جائیدادیں بنائیں، 22 کروڑ عوام کو پہلی مرتبہ عمران خان کی صورت میں ایک دیانتدار …
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کا اے پی پی تقسیم ایوارڈ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 دسمبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 2008ءسے 2018ءکے دوران میثاق کرپشن کے ذریعے ملک کے خزانے کو بے دردی سے لوٹ کر اپنے خزانے بھرے اور بیرون ممالک میں اپنی جائیدادیں بنائیں، 22 کروڑ عوام کو پہلی مرتبہ عمران خان کی صورت میں ایک دیانتدار اورایماندار وزیراعظم ملے ہیں جو ہر ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پہلے 15 ماہ میں معاشی طور پر دیوالیہ ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرکے معاشی استحکام کے سفر پر گامزن کر دیا ہے، 2020ءمعاشی ٹیک آف کا سال ہے اس سال عام آدمی کو حکومتی اصلاحات اور پالیسیوں کے ثمرات ملنے شروع ہو جائیں گے۔ وہ بدھ کو ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی تقسیم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایک اچھی وزیر اطلاعات ثابت ہوئی ہیں، 24 گھنٹے کی انتھک محنت سے وہ وزارت کو بہتر انداز میں چلا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کرپشن منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانے کو دیمک کی طرح کھا گئی ہے۔ ان دس برسوں میں صرف برسراقتدار خاندان ہی امیر سے امیر تر ہوئے ہیں، عوام غربت کی نچلی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار ملا اس وقت پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے دن رات محنت کرکے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کیا، آج عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معیشت کی مضبوطی پر مہر ثبت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں اداروں کے اندر اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ اصلاحات کے شعبے میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر آچکا ہے۔ کاروبار میں آسانی کے شعبے میں پرویز مشرف کے دور میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں 72ویں نمبر پر تھا گزشتہ دس برسوں کے دوران پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی حکومتوں نے پاکستان کو 132 ویں نمبر پر دھکیل دیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات کی بدولت پاکستان 28 درجے بہتری کے ساتھ 100 ویں نمبر کے قریب پہنچ چکا ہے آئندہ چند برسوں میں پاکستان مزید بہتری کی جانب آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا 2 ممالک کی اصل حقیقت کو جان چکی ہے۔ دنیا کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اقلیتوں کے مذہب کے تحفظ کیلئے کرتار پور راہداری کس جذبے اور مقصد کیلئے کھولی گئی اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جس دن کرتار پور راہداری کھولی جاتی ہے اسی دن بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کا فیصلہ آنا بھی دنیا کے سامنے ہے۔







