صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ایوان صدر میں یوم قائد کے حوالے سے منعقد ہ تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 25 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچوں کو قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان بچوں کی تعلیم و تربیت سے ملک کا مستقبل جڑا ہے، بھارت میں حالیہ واقعات سے دوقومی نظریئے کو تقویت ملی ہے، پاکستان میں تمام مذاہب کو مساوی مذہبی آزادی حاصل ہے، قومی مسائل کو …

اسلام آباد ۔ 25 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچوں کو قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان بچوں کی تعلیم و تربیت سے ملک کا مستقبل جڑا ہے، بھارت میں حالیہ واقعات سے دوقومی نظریئے کو تقویت ملی ہے، پاکستان میں تمام مذاہب کو مساوی مذہبی آزادی حاصل ہے، قومی مسائل کو متحد ہو کر حل کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایوان صدر میں یوم قائد کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوم قائد کے حوالے سے بچے گزشتہ چند روز سے پرجوش تھے ہر طرف قومی ترانہ کی دھنیں پھیلی ہوئی تھیں ۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں ان بچون کی جیسی تربیت کریں گے ویسے ہی پاکستان کا مستقبل ہو گا۔ آج کے اچھے اور ابھرتے ہوئے پاکستان کیلئے بچوں کی تعلیم و تربیت اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح کودیکھا، مزار قائد میں ان کی تدفین ہوئی، قائداعظم محمد علی جناح کی دوسری ہمشیرہ شیریں بائی جہاں سے قریبی رفاقت رہی، انہوں نے ٹرسٹ بنایا، رفاہی کاموں میں ان کا ساتھ دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کردارسازی کیلئے بچوں کوقائد اعظم کے فرمودات سے آگاہ کرنا ضروری ہے، پاکستان تا قیامت قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں قائداعظم نے جس دو قومی نظریہ کو اجاگر کیا تھا وہ آج دوبارہ لوگوں کو سمجھ آ رہاہے بلکہ ہندوستان جس سے ہم نے علیحدہ وطن حاصل کیا اس کو بھی آج پتہ چل رہاہے دوقومی نظریہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا،گزشتہ چند ماہ میں خطہ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوقومی نظریہ درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم محمد علی جناح پر کتاب لکھی جس میں ان کے بچپن کے حالات و واقعات پر روشنی ڈالی گئی، قائداعظم نے بیرون ملک جا کر قانون سازی کی تعلیم حاصل کی کیونکہ انہیں احساس ہو گیا تھاکہ ایسے حالات میں مسلمانان ہند اپنے حقوق قانون دانوں کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں، انہوں نے دیانت داری اور سچائی کا اصول اپنایا جس کو دنیا مانتی تھی، اس سے بہتر کوئی قانون اور اصول نہیں، جھوٹ بولنے سے ہر جگہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے، قائد اعظم محمد علی جناح مقدمات میں بھی اپنے سچائی کے اصول پر کاربند رہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ بولنے اور وعدہ پورا کرنے سے آسانیاں پیدا ہوتی ہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی تقریروں میں سچائی کو اہمیت دی، کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف بات کی، ہمیں ان منزلوں تک پہنچنا ہے، قوم میں اگر یہ برائیاں موجود ہوں گی تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے قربانیاں دے کر حاصل کئے گئے پاکستان کا حق ادا نہیں کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمارے آباﺅ اجداد نے قیام پاکستان کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ہمارا ان بزرگوں سے وعدہ ہے کہ ہم ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم انسانی اصولوں پر کاربند رہے، مولانا حسرت موہانی نے بھی تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا، قائداعظم محمد علی جناح مولانا حسرت موہانی جیسے تحریک پاکستان کے کارکنوں کی بڑی قدر کرتے تھے، قائداعظم نے تحریک پاکستان کے دوران ایک بچے سے پاکستان زندہ باد کے حوالے سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ آپ چاہتے ہو کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور جہاں ہندوﺅں کی اکثریت ہے وہاں ہندوﺅں کی حکومت ہو۔ صدر مملکت نے کہا کہبچوں کو پاکستان بننے کی وجوہات کے بارے میں علم ہونا چاہیے اور یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ کیسا پاکستان بننا چاہیے، بچے ملک کے ابھرتے ہوئے رہنما ہیں، یہ پاکستان کو اس مقام پر لے جائیں گے جس کا خواب ہمارے آباﺅ اجداد نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے تین دن پہلے کہا کہ پاکستان بن گیا ہے، جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی مذہبی آزادیاں حاصل ہیں، ہمیں اپنے سکولوں اور تربیت میں یہ شامل رکھنا چاہیے کہ سب برابر ہیں، میں سب کو پاکستانی سمجھتا ہوں چاہے ان کا تعلق کسی صوبے یا مذہب سے ہو، یہ پاکستان کا اصل مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں سکول بند ہیں، کرفیو کے باعث بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے وہاں ظلم و بربریت ڈھا رہا ہے، حالانکہ مقبوضہ کشمیر ہمارا حصہ ہونا چاہیے تھا، بھارت میں تقسیم کے وقت جس طرح کے حالات تھے آج بھی ویسے ہی حالات ہیں، دو قومی نظریہ پختہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو قانون بن رہے ہیں ان کو دیکھ کر قائداعظم کا ہمارے لئے پاکستان کا قیام نعمت سے کم نہیں، ہمیں قائداعظم کے اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے، معذور افراد اور غریبوں کا خیال رکھنا چاہیے، ہمیںکشمیر کی آزادی سمیت دیگر قومی امور پر اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔

مزید خبریں