صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید الفاظ میں مذمت

اسلام آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوانوں کو شہید کرنے، آزادکشمیر کے مختلف سیکٹروں میں سول آبادی کو نشانہ بنانے اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی بوکھلاہٹ …

اسلام آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوانوں کو شہید کرنے، آزادکشمیر کے مختلف سیکٹروں میں سول آبادی کو نشانہ بنانے اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی بوکھلاہٹ اور اپنی اندرونی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں صدر آزادکشمیر نے آزاد کشمیر کے حاجی پیر سیکٹر کے سب سیکٹر دیوا میں پاک فوج کے نائب صوبیدار قندیرو اور سپاہی احسان کی شہادت اور ایک اور جوان کے زخمی ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور وطن عزیز کے دفاع، سلامتی اور آزادکشمیر کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ شہریت بل کی منظوری کے بعد بھارت میں جس بڑے پیمانے پر مودی حکومت کے خلاف پورا ہندوستان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور شہری بلا تخصیص مذہب، رنگ و نسل سراپا احتجاج ہیں اس سے مودی اور اس کا خوشامدی ٹولہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت اندرونی اور بیرونی دباﺅ سے نکلنے کے لئے لائن آف کنٹرول پر جنگ کی صورتحال پیدا کر کے دنیا کی توجہ اپنی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک سے ہٹانے کے علاوہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری کرفیو اور لاک ڈاﺅن سے بھی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنونیت کی آگ بھڑکانے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ صد رسردار مسعود خان نے کہا کہ سال 2019ءلائن آف کنٹرول کے ساتھ بسنے والے 80 ہزار خاندانوں کے پانچ لاکھ سے زیادہ آزاد کشمیر کے شہریوں کے لئے بد ترین سال تھا کیونکہ اس سال بھارتی فوج کی درندگی اور وحشت کا شکار ہو کر 61 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 257 بے گناہ شہری زخمی یا معذور ہوئے اور اسی طرح سینکڑوں شہریوں کے مکانات جزوی کا کلی طور پر متاثر ہوئے اور ان کے کاروبار، مال مویشی اور فصلیں بھی بری طرح تباہ و برباد ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے دس اضلاع میں سے پانچ اضلاع نیلم، جہلم ویلی، حویلی، پونچھ اور کوٹلی بھارتی فائرنگ سے بری طرح متاثر ہوئے جہاں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ بڑی تعداد میں شہریوں کی املاک ، کاروبار اور زمینوں کو بھی نقصان پہنچا۔ صدر آزادکشمیر نے وفاقی حکومت کی طرف سے لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں میں آباد شہریوں کے لئے امدادی پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کو مرکزی حکومت کا بروقت اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13982 متاثرہ خاندانوں کی مددو بحالی کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے 67 کروڑ کی رقم مختص کرنے سے متاثرین لائن آف کنٹرول کو ریلیف ملے گا جس کے لئے ہم وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں۔

مزید خبریں