وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس کو قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی بذریعہ سرکولیشن منظوری دی تھی جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی آرڈیننس پر دستخط کردیئے تھے۔وزارت قانون نے اب نیب ترمیمی …

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس کو قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی بذریعہ سرکولیشن منظوری دی تھی جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی آرڈیننس پر دستخط کردیئے تھے۔وزارت قانون نے اب نیب ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نیب ترمیمی آرڈیننس اب باضابطہ طورپر نافذ العمل ہوگیا۔ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا جبکہ ترمیمی آرڈیننس سے ٹیکس اور سٹاک ایکسچینج سے متعلق معاملات میں بھی نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوجائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق نیب حکومتی منصوبوں اور سکیموں میں بے ضابطگی پر پبلک آفس ہولڈر کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گا تاہم کسی پبلک آفس ہولڈر نے بے ضابطگی کے نتیجے میں مالی فائدہ اٹھایا تو نیب کارروائی کر سکتا ہے۔ وفاقی و صوبائی ٹیکس اور لیویز کے زیر التواءمقدمات بھی متعلقہ محکموں یا متعلقہ عدالتوں کو منتقل ہو جائیں گے۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمد نہیں کیا جا سکے گا اور اگر تین ماہ میں نیب تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہوگا مگر سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کارروائی ہو سکے گی۔اس کے علاوہ نیب 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن اور سکینڈل پر کارروائی کر سکے گا۔

مزید خبریں