خیبر پختونخوا میں بدترین بدامنی، پی ٹی آئی 12 سالہ اقتدار کے بعد جوابدہی سے نہیں بچ سکتی، نوابزادہ جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے خیبر پختونخوا کی سابقہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور صوبائی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں 12 سال اقتدار میں رہنے کے بعد پی ٹی آئی اپنی ناقص گورننس اور سیکیورٹی بحران پر جوابدہی سے اب مزید نہیں بچ سکتی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم …

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے خیبر پختونخوا کی سابقہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور صوبائی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں 12 سال اقتدار میں رہنے کے بعد پی ٹی آئی اپنی ناقص گورننس اور سیکیورٹی بحران پر جوابدہی سے اب مزید نہیں بچ سکتی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے ایک بیان میں نوابزادہ جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور میں تمام تر توجہ سیاسی مارچز اور صرف ایک شخص کی رہائی کے مطالبات پر مرکوز رکھی گئی جس کی قیمت خیبر پختونخوا کے نہتے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے چکائی۔

انہوں نے دہشت گردی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ سال 2025 کے دوران ملک میں 1,066 حملوں میں 3,413 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ سال 2026 میں بھی یہ نقصانات اتنے ہی تشویشناک ہیں، جن کا واضح مطلب تباہ حال خاندان اور مسلسل خوف میں مبتلا معاشرہ ہے۔رہنما پیپلز پارٹی نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاق کی جانب سے سیاسی اختلافات بھلا کر سیکیورٹی معاملات پر تعاون اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی متعدد بار کوششیں کی گئیں مگر صوبائی حکومت نے انہیں ناکام بنایا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کے سنگین سیکیورٹی بحران پر وفاق کے ساتھ مثبت مکالمے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں ٹک ٹاک ریچ بڑھانے اور سیاسی شعبدہ بازیوں میں ضائع کیں۔

جمال رئیسانی نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی صوبائی حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری اپنے عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ سیاسی محاذ آرائی یا ذاتی و گروہی عزائم کو سیکیورٹی سے چشم پوشی کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اب لامتناہی سیاسی الزامات اور سوشل میڈیا اسٹنٹ کے متحمل نہیں ہو سکتے، صوبے کے عوام امن، استحکام اور ایک ذمہ دار قیادت کے حقدار ہیں۔