پاکستان میں سیکھنے کے عمل نے روایتی بلیک بورڈز سے لے کر مصنوعی ذہانت تک ایک تاریخی سفر طے کیا ہے، جس نے روایتی کلاس رومز کو ’’سمارٹ لرننگ‘‘(جدید تعلیمی) ماحول میں تبدیل کر دیا ہے۔ایک وقت تھا جب طلبہ بلیک بورڈ پر لکھے گئے اسباق کو یاد کرنے کے لیے جدوجہد کرتے تھے لیکن آج وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے پیچیدہ مساواتیں حل کر رہے ہیں، مضامین لکھ …
مصنوعی ذہانت نے روایتی کلاس رومز کو سمارٹ لرننگ ماحول میں تبدیل کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں سیکھنے کے عمل نے روایتی بلیک بورڈز سے لے کر مصنوعی ذہانت تک ایک تاریخی سفر طے کیا ہے، جس نے روایتی کلاس رومز کو ’’سمارٹ لرننگ‘‘(جدید تعلیمی) ماحول میں تبدیل کر دیا ہے۔ایک وقت تھا جب طلبہ بلیک بورڈ پر لکھے گئے اسباق کو یاد کرنے کے لیے جدوجہد کرتے تھے لیکن آج وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے پیچیدہ مساواتیں حل کر رہے ہیں، مضامین لکھ رہے ہیں اور پریزنٹیشنز تیار کر رہے ہیں۔جو طلبہ پہلے لائبریری کی کتابوں کے منتظر رہتے تھے، اب وہ اے آئی ٹولز کے ذریعے سیکنڈز میں جوابات حاصل کر رہے ہیں۔اس حوالہ سے نویں جماعت کی طالبہ عائشہ خان نے اے پی پی کو بتایا کہ پہلے ہم ہر چیز بلیک بورڈ سے نقل کرتے تھے۔
اب ہم اے آئی سے پوچھتے ہیں اور وہ ہمیں کسی استاد کی طرح وضاحت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے گھر پر ریاضی کا کوئی سوال سمجھ نہ آئے تو میں اے آئی سے پوچھتی ہوں اور وہ مجھے مرحلہ وار حل فراہم کرتا ہے جس سے سیکھنا آسان ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم پریزنٹیشنز بناتے ہیں اور اپنے پراجیکٹس کے لیے تصاویر اور وڈیوز تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلیک بورڈ نے ہمیں لکھنا سکھایا اور مصنوعی ذہانت ہمیں سوچنا اور تخلیق کرنا سکھا رہا ہے۔ ایک اور طالب علم طلحہ خان نے کہا کہ پہلے ہمارے پاس صرف بلیک بورڈ ہوتا تھا اور استاد کے نوٹس ہی ہمارا واحد ذریعہ ہوتے تھے۔
اگر ہماری کوئی کلاس چھوٹ جاتی تو سبق بھی چھوٹ جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب اے آئی اور سمارٹ بورڈز کی بدولت ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہے، لیکچرز دوبارہ دیکھے جا سکتے ہیں، کسی بھی وقت اے آئی سے سوالات پوچھے جا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ کوڈنگ اور گرافک ڈیزائن جیسی نئی مہارتیں بھی سیکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے سیکھ رہے ہیں۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ اے آئی نے کلاس رومز کی جگہ نہیں لی بلکہ انہیں تبدیل کر دیا ہے۔
اب توجہ رٹا لگانے کی بجائے تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں پر مرکوز ہو رہی ہے۔اسلام آباد ماڈل کالج کی استاد شازیہ نے کہا کہ ہمارا کردار نوٹس لکھوانے سے بدل کر طلبہ کی رہنمائی کرنے تک آ گیا ہے تاکہ طلبا ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ کلاس رومز سیکھنے میں سست رفتار طلبہ کی بھی مدد کر رہے ہیں اور اے آئی ٹولز کے ذریعے ہر طالب علم کو اس کی صلاحیت کے مطابق انفرادی کام (ٹاسک) دیئے جا سکتے ہیں جبکہ بلیک بورڈ والے نظام میں ایسا ممکن نہیں تھا۔







