قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کا نیب اہلکاروں میں میرٹ سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے اورکرپشن کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لاےا گےا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوںکی حق حلال کی کمائی ہوئی …

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے اورکرپشن کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لاےا گےا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوںکی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ دو سالوں کے دوران بدعنوان عناصر کی لوٹی گئی 178ارب روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائی جبکہ ادارہ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 328 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نیب کی نمایاں کامیابی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب اہلکاروں میں شاندار کارکردگی پرمیرٹ سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ اس تقریب کا مقصد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنےوالے نیب افسران واہلکاران کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔نیب ہر شعبہ میں میرٹ پر عمل پیرا ہے اور یہ سرٹیفکیٹس میرٹ پر دئیے جا رہے ہیں۔نیب کے تمام افسران واہلکاروں نے ادارہ کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار اداکیا ہے۔نیب افسران نے اپنی محنت،عزم اورحوصلے سے نیب کو فعال ادارہ بنادیا ہے۔نیب افسران اسی کارکردگی کو جاری رکھیں گے اور قوم کی ملک سے بدعنوانی سے خاتمہ کیلئے امنگوں پر پورا اترنے کیلئے اپنی کوششیں دوگناکریں گے۔جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ چئیرمین نیب کا عدہ سنبھالنے کے بعد نیب کو فعال ادارہ بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے ہیں۔ چئیرمین نیب نے کہاکہ سفارش ،دھمکی اور دباﺅنیب کے باہرختم ہوجاتا ہے ،انہوں نے کہاکہ نیب فیس نہیں کیس دیکھتاہے۔کوئی چاہے جتنا بھی طاقتورہو اسے بدعنوانی کی سز ملے گی ۔جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ پلڈاٹ،ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ اکنامک فورم جیسے اداروں نے نیب کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بد عنوانی کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ نیب کا تعلق کسی گروہ ،فرد،گروپ یا سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ صرف اور صرف پاکستان سے ہے۔ نیب کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں۔نیب کو کسی کے خلاف غلط کیس بنانے کی ضرورت نہیں۔بادی النظر میں شہادتیں موجود ہوتی ہیں تو نیب کیس بناتاہے،ضمانت دینامعزز عدالتوں کا اختیار ہے ، ضمانت سے کیس ختم نہیں ہوتا،یہ عبوری ریلیف ہوتا ہے۔ نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 70فیصد سے زائد ہے۔ چئیرمین نیب نے کہاکہ نیب ٹیکسوں سے متعلق مقدمات گزشتہ 3ماہ سے ایف بی آر کو بھجوا رہا ہے۔بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے ڈائریکٹر نیب کی سربراہی میں خصوصی سیل قائم کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیب نے ایساکوئی اقدام نہیں کیا جس سے بیورو کریسی میں بد دلی پھیلے یا معیشت کو نقصان پہنچے۔ہمیشہ شہادتوں اورمعروضی حقائق کو سامنے رکھ کر کارروائی کی۔انہوں نے کہاکہ قانون کے راستے میں کوئی مصلحت رکا وٹ نہیں بنے گی۔کرپشن کرنے والوں کو ہرصورت جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چئیرمین نیب نے کہاکہ نیب نے گزشتہ دوسال کے دوران مجموعی طور پر بدعنوان عناصر سے بلاواسطہ اور بلواسطہ لوٹے گئے 178ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے جبکہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 328ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نیب کی نمایاں کامیابی ہے ۔گزشتہ دوسال کے دوران نیب لاہورنے 36.333 ارب روپے،کراچی نے50 ارب روپے،خیبرپختونخوانے 0.363 ارب روپے،بلوچستان نے 0.646ارب روپے،راولپنڈی نے 80 ارب روپے،،سکھرنے 2.899 ارب روپے اور نیب ملتان نے8.226 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے ۔بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔چئیرمین نیب نے کہاکہ نیب کی پالیسی ” احتساب سب کیلئے“ کی ہے۔ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح اور زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی ہے َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو میں جہاں اور بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیں وہاں قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا نہ صرف عزم کیا بلکہ اس کو پورا کر کے دکھاےا۔ آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کےلئے قومی احتساب بیورو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کا رروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیںجبکہ اس وقت ملک کی معز ز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1260بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جنکی کل مالیت تقریباََ 943 ارب روپے ہے۔ڈائریکٹر جنرل نیب ہیڈکوارٹرز حسنین احمد نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔اس موقع پر ڈپٹی چئیرمین نیب حسین اصغراور ڈائریکٹر جنرل نیب آپریشن سید ظاہر شاہ بھی موجود تھے۔تقریب کے آخرمیں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں میرٹ سرٹیفکیٹس تقسیم کئے گئے۔

مزید خبریں