بغداد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) ایران نے امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے جواب میں عراق میں2 امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کئے ہیں جن میںتقریباً 80 امریکی فوجیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق یہ حملے ایران کی ریوولوشن گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے …
ایران کا عراق میں 2 امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ، 80 امریکی فوجی ہلاک کرنے کا دعوی

مزید خبریں
بغداد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) ایران نے امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے جواب میں عراق میں2 امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کئے ہیں جن میںتقریباً 80 امریکی فوجیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق یہ حملے ایران کی ریوولوشن گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کے سیکرٹری آف ڈیفنس فار پبلک افیئرز کے اسسٹنٹ جوناتھن ہوف مین نے بتایا کہ ایران نے گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 5 بجے عراقی علاقوں اربیل اور عین الاسد میں امریکی فوج اور اتحادی فورسز کے اڈوںکو ایک درجن بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں ہونے والے نقصان کا تعین کیا جارہا ہے تاہم اس دوران فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خدشے اور کشیدگی میں اضافہ کے بعد فوجی اڈوں پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے عراق میں امریکی بیسز پر میزائل حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیسز کو نشانہ بنانے کے لئے میزائل ایران سے فائر کئے گئے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملے کے بعد اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، عراق میں دو امریکی فوجی بیسز پر ایران سے میزائل فائر کئے گئے ہیں۔جانی و مالی نقصان کا اندازہ لگایاجا رہا ہے، ہمارے پاس دنیا کی طاقتور ترین اور بہترین اسلحہ سے لیس فوج ہے، میں کل صبح اس بارے بیان جاری کروں گا۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع میں مناسب اقدام کرتے ہوئے عراق میں امریکی فوجی اڈیکو نشانہ بنایا جہاں سے ہمارے شہریوں اور سینئر حکام کے خلاف بزدلانہ حملہ کیا گیا اور یہ جوابی کارروائی مکمل کر لی۔ ہم کشیدگی میں اضافہ یا جنگ نہیں جاہتے لیکن کسی بی جارحیت کے جواب میں اپنا دفاع کریں گے۔ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے جواب میں عراقی علاقے عین الاسد میں قائم فوجی بیس کو درجنوں میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی کی طرف سے مزید کسی بھی کارروائی کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا اور اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔بیان میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید جانی نقصان سے بچانے کے لئے انہیں عراق سے واپس بلوائے۔وائٹ ہائوس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی اقدام سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور قومی سلامتی ٹیم کے ارکان سے مشاورت کر رہے ہیں۔








