کراچی۔ 8 جنوری (اے پی پی) کموڈور راجہ رب نواز نے کہا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سمندری تحفظ صرف ہمارے لیے اہم نہیں ہے بلکہ دوسرے تمام ممالک کے لئے بھی اہم ہے جن کی خوشحالی اور ترقی سمندر کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہے۔ یہ بات انہوں نے پاکستان اور چینی بحریہ کے مابین چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز 2020 کے حوالے سے بدھ کو کراچی …
پاکستان اور چینی بحریہ کے مابین چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز 2020 کے حوالے سے سرکاری میڈیا کے نمائندوں کے لئے بریفنگ کا اہتمام

مزید خبریں
کراچی۔ 8 جنوری (اے پی پی) کموڈور راجہ رب نواز نے کہا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سمندری تحفظ صرف ہمارے لیے اہم نہیں ہے بلکہ دوسرے تمام ممالک کے لئے بھی اہم ہے جن کی خوشحالی اور ترقی سمندر کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہے۔ یہ بات انہوں نے پاکستان اور چینی بحریہ کے مابین چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز 2020 کے حوالے سے بدھ کو کراچی میں سرکاری میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ پاکستان اور چینی بحریہ کے مابین چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز 2020 کے حوالے سے کراچی میں سرکاری میڈیا کے نمائندوں کے لئے ایک بریفنگ کا اانعقاد کیا گیا۔ پاک بحریہ کے کموڈور راجہ رب نواز اور چینی بحریہ کے سینئیر کیپٹن ژوہان وین نے مشق کے مقاصد اور تفصیلات سے آگاہ کیا۔ کموڈور راجہ رب نواز نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر بطور ذمہ دار ریاست اپنے کردار اور اہمیت سے واقف ہے، بحری شعبہ پاکستا ن کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، محفوظ اور جرائم سے پاک سمندر میں ہماری دلچسپیاں تین حقائق کے پیش نظر اہم ہیں جن میں سمندر کے ذریعے تجارت پر ہمارا غیر معمولی انحصار، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو فعال بنانا اور عالمی توانائی کی راہداریوں میں اہم اسٹریٹجک مقام شامل ہے۔ یہ حقائق اجتماعی طور پرسمندری استحکام کو ہماری قومی سلامتی کا اولین ایجنڈا بناتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہت ہی خوشگوار تعلقات قائم ہیں اور دونوںممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر یکساں موقف کے حامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مشق سے ہماری دہائیوں پرانی دوستی کو مزید تقویت ملے گی اور مستقبل میںخطے میں تعاون اور ہم آہنگی کے لئے نئے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔ مشق کی تاریخ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سی گارڈینز کا آغاز2014 میں ہوا جس کے بعد پاک چین دوطرفہ بحری مشقیں باقاعدگی سے ہر سال باری باری پاکستان اور چین میں منعقد کی جاتی ہیں۔ 6 سے 14 جنوری 2020 تک جاری رہنے والی یہ دوطرفہ مشق اس سلسلے کی چھٹی مشق ہے جس میں چینی بحریہ کے اہم جنگی جہاز، فریگیٹس، فاسٹ اٹیک کرافٹس کے ساتھ ہوائی اور زیر آب اثاثے اور میرینز اور اسپیشل آپریشن فورسزکے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ ہاربرفیز کے دوران سماجی سرگرمیوں کے علاوہ، سیمینارز، ٹیبل ٹاپ ڈسکشن اور مشترکہ تربیتی سیشنز کے ذریعے مختلف بحری شعبوں میں ایک دوسرے کے نقطہ نظر اور مہارت سے مستفید ہونا بھی اس مشق کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ بحیرہ عرب میں 10 تا 13 جنوری 2020 تک مشق کے سمندری مرحلے میں سمندر میں متعدد معاصر اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لئے بنیادی اور جدید طرز کی مشترکہ سطح کی حکمت عملی کی مشقیں کی جائیں گی۔ حاضرین کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے چینی بحریہ کے سینئیر کیپٹن ژو ہان وین نے کہا کہ اس مشق کا بنیادی مقصد باہمی سکیورٹی تعاون اور پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشق محفوظ بحری ماحول کے فروغ کے لئے دونوں ممالک کی بحری افواج کی دہشت گردی اور سمندری جرائم کی روک تھام سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے گی۔








