اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزارت خزانہ نے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان خبروں کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ 2 وفاقی کالجوں میں 64 تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کی منظوری میں بیورو کریٹک رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ جمعرات کو یہاں جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ آئی ایم سی جی آئی …
وزارت خزانہ کی جانب سے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی خبروں کی تردید

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزارت خزانہ نے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان خبروں کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ 2 وفاقی کالجوں میں 64 تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کی منظوری میں بیورو کریٹک رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ جمعرات کو یہاں جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ آئی ایم سی جی آئی ایٹ تھری اور آئی ایم سی جی آئی فورٹین 3 میں 64 تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کی منظوری کیلئے جو کیس وزارت خزانہ کو بھجوایا گیا تھا ان میں متعلقہ معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں، اسی طرح متعلقہ دستاویزی عمل کے تقاضے بھی پورے نہیں کئے گئے اس لئے یہ تقاضے پورا کرنے کی خاطر یہ کیس دو بار وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ امور کو ریفر کیا گیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ وزارت سے ان پٹ لینے کے بعد یہ کیس دوبارہ وزارت خزانہ کے پاس آیا جس کو تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے ایک کیس میں بہارہ کہو اور سہالہ کے تعلیمی اداروں میں عملہ کی تعیناتی کی وزارت خزانہ نے منظوری دی تھی جس کا شائع ہونے والی خبر میں ذکر بھی کیا گیا ہے اور اس کا اعتراف کیا گیا ہے۔








