اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کا اہم کردار ہے، پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، وزیراعظم کے وژن کے تحت اس شعبہ کی ترقی کیلئے ایمرجنسی پروگرام کے …
وفاقی وزیر خسرو بختیار کی زیر صدارت پی اے آر سی کا بجٹ اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کا اہم کردار ہے، پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، وزیراعظم کے وژن کے تحت اس شعبہ کی ترقی کیلئے ایمرجنسی پروگرام کے تحت 13 منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے بجٹ 2019-20ءکی منظوری کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ پی اے آر سی زرعی شعبہ میں تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیقاتی سرگرمیوں کے نتائج کسانوں کی دہلیز پر پہنچانے میں پی اے آر سی کا کردار اہم ہے، موجودہ حکومت زرعی شعبہ کی ترقی اور بہتری کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ میں بہتری لانے کیلئے وزیراعظم کے وژن کے تحت 13 منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے برآمدات میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت معاشی خود کفالت کے اصول کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے کر پیداوار میں اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔








