ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے خطے کے مختلف وزرائے خارجہ سے مشاورت کی ، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرے اور پاکستان اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، دنیا بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہ رہی ہے۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ …

اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرے اور پاکستان اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، دنیا بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہ رہی ہے۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے خطے کے مختلف وزرائے خارجہ سے مشاورت کی، سب چاہتے ہیں کہ کشیدگی کم ہو کیونکہ مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور نہ ہی یہ خطہ کسی نئی لڑائی کا متحمل ہو سکتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیان کی وجہ سے کشیدگی میں تھوڑی کمی آئی ہے، ان کے بیان سے مثبت اشارے ملے ہیں، دوسری طرف ایران کی جانب سے بھی کشیدگی کم کرنے کے اشارے ملے ہیں، یہ نہیں کہوں گا کہ کشیدگی کے بادل چھٹ گئے ہیں لیکن صورتحال میں قدرے بہتری ضرور آئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے خطے سمیت پوری دنیا کو نقصان پہنچے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کام بگاڑنے والے عناصر تھے اور اب بھی موجود ہیں، بگاڑ پیدا کرنے والے صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں، بگاڑ پیدا کرنے والے ہمارے پڑوس میں بھی ہو سکتے ہیں، مشرقی سرحد پر فالس فلیگ آپریشن کا خدشہ رہا ہے اور اب بھی موجود ہے اور ان حالات کی آڑ میں کوئی بھید نہیں کہ وہ کوئی نہ کوئی حرکت کر سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کشیدگی بڑھنے سے افغان امن عمل کو نقصان ہو سکتا ہے، پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان کی صورتحال اور امن کا عمل متاثر ہو، پاکستان کی خواہش اور کوشش ہے کہ افغان عمل پایہ تکمیل تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ چین خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا، روس کی بھی یہی خواہش ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری روسی ہم منصب سے بات ہوئی ہے، انہوں نے پاکستان کے حالیہ بیانات اور اقدامات کو سراہا ہے، پاکستان کا واضح موقف ہے کہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی کسی کو اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے گا، روسی ہم منصب نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے، روسی ہم منصب نے کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کیا، پاکستان کے رویے اور موقف سے ایران مطمئن دکھائی دیتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ہمسایہ ہے اور پاکستان ایران کے مسائل میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتا۔