احساس فریم ورک اور سٹرٹیجک تعاون کے تحت انڈرگریجویٹ سکالرشپ پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس، پراجیکٹ کی اب تک کی کار کردگی کاجائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔ 14 جنوری (اے پی پی) احساس فریم ورک اور سٹرٹیجک تعاون کے تحت انڈرگریجویٹ سکالرشپ پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا جس کا مقصد پراجیکٹ کی اب تک کی کار کردگی کاجائزہ لینا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے 4 نومبر 2019ءکو احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پروگرام آغاز کیا تھا۔ احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پراجیکٹ کی نگرانی احساس سکالرشپ سٹیئرنگ کمیٹی کر رہی ہے جس کی …

اسلام آباد۔ 14 جنوری (اے پی پی) احساس فریم ورک اور سٹرٹیجک تعاون کے تحت انڈرگریجویٹ سکالرشپ پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا جس کا مقصد پراجیکٹ کی اب تک کی کار کردگی کاجائزہ لینا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے 4 نومبر 2019ءکو احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پروگرام آغاز کیا تھا۔ احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پراجیکٹ کی نگرانی احساس سکالرشپ سٹیئرنگ کمیٹی کر رہی ہے جس کی صدارت وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے معاشرتی تحفظ اور تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور چیئرمین ایچ ای سی نے کی۔ تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 132,192 انڈرگریجویٹ طلباء(جن میں لڑکیوں کی 49,841 درخواستیں شامل ہیں) نے سکالرشپ کےلئے آن لائن ایچ ای سی پورٹل کے ذریعے درخواستےں جمع کرائی ہےں جو پراجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے تحت 24 دسمبر 2019ءکو درخواستوں کےلئے باضابطہ طور پر بند ہو گئی تھی۔ اس سکالرشپس پروگرام کے تحت سرکاری شعبہ کی یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کرنے والے کم آمدنی والے خاندانوں کے تمام طلباءدرخواست دینے کے اہل تھے۔ ضرورت پر مبنی میرٹ کے وظائف میں ٹیوشن فیس کے ساتھ گزر بسرکا وظیفہ بھی شامل ہے۔ اجلاس میں مستحق طلباءسے موصولہ درخواستوں پر کارروائی کےلئے اگلے اقدامات کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے وظائف کی تقسیم اور تقسیم کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ درخواستوں کی جانچ یکم جنوری 2020ءسے شروع ہو چکی ہے اور انتخاب کا عمل مارچ 2020ءکے آخر تک تمام سرکاری شعبوں کی 118 یونیورسٹیوں کے ساتھ مکمل ہو جائے گا۔ احساس سکالرشپ پراجیکٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نشتر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت کا پختہ عہد ہے کہ کوئی بھی طالب علم مالی پابندیوں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ 29 اکتوبر 2019ءکو وفاقی کابینہ کے منظور کردہ پالیسی رہنما خطوط کے مطابق اس بات کو یقینی بناےا جائے گا کہ اس سکالرشپ سکیم سے لڑکیوں اور اہل طلباءکے ساتھ ساتھ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان طلباءکو جامع طور پر فائدہ پہنچے جنہوں نے وظیفہ کےلئے درخواست دی۔ چیئرمین ایچ ای سی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مستحق طلباءکے انتخاب کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور وظائف کے ایوارڈ میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا۔ 20 ارب روپے کی لاگت پر مبنی احساس سکالرشپ پراجیکٹ بی آئی ایس پی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا مشترکہ اقدام ہے جس کے تحت اگلے چار سالوں میں پسماندہ خاندانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے انڈرگریجویٹ طلباء(بشمول 50 فیصد لڑکیوں) کو ہر سال 000 50, وظائف دیئے جائیں گے۔