اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نہ صرف مذہب، اخوت، تاریخ، زبان اور ہمسائیگی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہیں بلکہ دونوں اقوام میں خونی رشتے موجود ہیں، پاکستان ایک پرامن اور خوشحال افغانستان دیکھنے کا خواہاں ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ کے وسیع ترمفاد میں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار افغانستان …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرافغانستان کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو حاجی محمد محقق کی سربراہی میں وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نہ صرف مذہب، اخوت، تاریخ، زبان اور ہمسائیگی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہیں بلکہ دونوں اقوام میں خونی رشتے موجود ہیں، پاکستان ایک پرامن اور خوشحال افغانستان دیکھنے کا خواہاں ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ کے وسیع ترمفاد میں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار افغانستان کے ایک وفد جس نے حزب وحدت کے سربراہ اور افغانستان کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو حاجی محمد محقق کی سربراہی میں منگل کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں سپیکر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد افغان ولسی جرگہ کے موجود اور سابق ممبران، حزب وحدت کے اراکین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل تھا۔ وفد لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ سپیکر نے افغان امن مذکرات میں تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر اس امن عمل کی حمایت کرتاہے جس کو افغان قوم کی حمایت حاصل ہوگی۔ سپیکر نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کےلئے دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کے مابین رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چائنا۔پاک اقتصادی راہداری منصوبے میں افغانستان کی شرکت نہ صرف افغانستان کےلئے سودمند ثابت ہو گی بلکہ وہ وسطی ایشیائی ریاستیوں کےلئے ایک گیٹ وے ثابت ہو گا۔ انہوں نے پاک۔افغان تجارت کے فروغ کےلئے دونوں ممالک کی سرحدوں تک ریلوے اور روڈ نیٹ ورک کو بڑھایا جائے گا۔ حزب وحدت افغانستان کے سربراہ اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو افغانستان حاجی محمد محقق نے افغانستان کےلئے سپیکر کے تاثرات کو سراہا اور افغان وفد کو ملاقات کےلئے وقت دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا نہ صرف ہمسایہ ہے بلکہ ایک مخلص اور عزیز بھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست کا انتخاب تو اپنی پسند کیا جا سکتا ہے اور ہمسایہ قدرت کی جانب سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے افغانستان میں امن کے قیام کےلئے افغان سیاسی قوتوں میں مکالمہ کےلئے سہولت فراہم کرنے پر لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک مل کر خطہ میں امن و استحکام کےلئے کام کر سکتے ہیں۔ انہوں افغانستان میں جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے افغان عوام کی میزبانی پر پاکستانی عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔








