وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کا قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ کشمیریوں کے لئے دینی فریضہ سمجھ کر باہر نکلیں‘ ہر مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے اس لئے دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگا‘ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملے گا ہم ڈٹے رہیں …

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ کشمیریوں کے لئے دینی فریضہ سمجھ کر باہر نکلیں‘ ہر مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے اس لئے دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگا‘ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملے گا ہم ڈٹے رہیں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلی مرتبہ اس پارلیمان کی تاریخ میں قومی اسمبلی ہال کے اندر پاکستانی پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے جو جوان بھارت کی 9 لاکھ فوج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر سردخانے سے باہر آیا۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی بات کی کہ بھارت کے ساتھ بات چیت تب ہوگی جب مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔ وزیراعظم نے ساری دنیا کو باور کرایا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرائے ورنہ یہ ایک خطہ کا مسئلہ نہیں رہے گا پوری دنیا کا مسئلہ بن جائے گا۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں ناموس رسالت پر بات کی اور سب سے زیادہ دیر تک انہوں نے کشمیر پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی آر ایس ایس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے اور ہٹلر کا پیروکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے کرفیو کے باوجود وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر پر خوشی کا اظہار کیا اور پٹاخے چلائے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سالوں میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہوئے‘ 90 ہزار بچے یتیم ہوئے‘ 30ہزار خواتین بیوہ ہوئیں‘ پیلٹ گنوں سے 31 ہزار کشمیری بچے اور بچیاں نابینا ہوئے۔ 13 ہزار بچیوں کی عصمت دری کی گئی۔ پاکستان پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ کشمیر کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔ اگر دنیا نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو یہ جنگ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ وقت آگیا ہے کہ ہم صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ جنونی اور ظالم مودی کو جواب دینا ہوگا۔ مودی وحشی بن چکا ہے اس کا دماغ ٹھکانے لگانا ہوگا۔ دنیا کی پارلیمنٹس کی اکثریت مسئلہ کشمیر کی حمایت کر رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں آرٹیکل لکھے جارہے ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کے ادارے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ہماری کامیابی ہے۔ اس مسئلہ پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے غلط پیغام جائے گا۔ جذبہ اور تلوار کی جنگ میں ہمیشہ جیت جذبے کی ہوتی ہے۔ کشمیریوں کے جذبے اور بے مثال قربانیوں نے ایک لازوال تاریخ رقم کردی ہے۔ اکتوبر میں ہم نے کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بلانا تھا مگر ہماری حکومت کے خلاف دھرنا دیا گیا جس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتے ہیں تو پوری شدت کے ساتھ اقوام متحدہ پر زور دیں کہ بھارت کو اقوام متحدہ کو کرائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ اس کے لئے ہمیں ہر حد تک جانا ہوگا۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ کشمیریوں کے لئے دینی فریضہ سمجھ کر باہر نکلے۔ ہر مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے اس لئے دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملے گا ہم ڈٹے رہیں گے۔