اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے سے امن، خوشحالی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر عمل درآمد ہوگا جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے، حکومت کے احساس پروگرام، کامیاب نوجوان پروگرام اور دیگر سماجی فلاح وبہبود کے منصوبے قابل تعریف ہیں ، پاکستانی عوام نے لاکھوں …
پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے سے امن، خوشحالی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر عمل درآمد ہوگا جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے سے امن، خوشحالی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر عمل درآمد ہوگا جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے، حکومت کے احساس پروگرام، کامیاب نوجوان پروگرام اور دیگر سماجی فلاح وبہبود کے منصوبے قابل تعریف ہیں ، پاکستانی عوام نے لاکھوں افغان مہاجرین کی بہترین مہمان نوازی کی، ہمارا مشترکہ وژن موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور پائیدار ترقی ہے، پائیدار ترقیاتی اہداف کیلئے کاوشیں اور کام کی رفتار کو تیز کرنا ہو گا،پاکستان پائیدار ترقیاتی اہداف کیلئے کاوشیں کر رہا ہے،کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبہ قابل ستائش ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے مکمل تحفظ کی ضرورت ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات میں سہولت کاری کر سکتے ہیں، مقامی سطح پر کئے جانے والے اقدامات اور عالمی سطح پر کی جانے والی کاوشوں کو یکسوئی کے ساتھ دنیا میں رونماء ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے نبردآزما ہونا ان کے شدید اثرات کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل سمیت عالمی سطح کے مندوب، مختلف این جی اوز کے نمائندے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی برادری کو موسمیاتی تبدیلی سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن وہ اس بات کے قائل ہیں کہ عالمی برادری اس مسئلے سے باہمی اعتماد اور تعاون کے ساتھ حل کر لیں گے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان شدید موسمیاتی اثرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک تباہ کن اثرات سے بچا ہوا نہیں ہے جیسا کہ آسٹریلیا اور امریکہ میں حالیہ جنگلات میں لگنے والی آگ سے بڑی تباہی ہوئی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اقوام کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے جن کو ذہن میں رکھنا اہم ہے، پاکستان پر عالمی موسمیاتی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا 80فیصد پانی زراعت کے شعبے میں استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ قدرتی وسائل بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اس کے علاوہ گلیشیئر بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں جو کہ مستقبل میں قومی غذائی سیکورٹی کا چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان اس مسئلے پر اکیلا نہیں کیونکہ پوری دنیا اس طرح کے مسائل سے دوچار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خطرناک گیسوں اور دھوئوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اہم اقدامات کی ضرورت ہے ۔ سیکرٹری جنرل نے حکومت کی جانب سے آئندہ 5سال کے دوران 10ارب درخت لگانے کے اقدامات کو سراہا اور گرین پاکستان کی تحریک پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی خوشی ہے کہ اسلام آباد میں پلاسٹک بیگ پر پابندی لگا دی گئی ہے اور پلاسٹک بیگ زمین اور ماحول کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے آبی آلودگی جنم لیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا بہت ضروری ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک غربت اور بے روزگاری کے خاتمے، غذائی قلت اور انسانی حقوق جیسے مسائل کو حل کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کیلئے رضامند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے سے امن، خوشحالی اور انسانی حقوق کی پاسداری عمل میں آئے گی جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری جیسے مسائل کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے باہمی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت کے احساس پروگرام، کامیاب نوجوان پروگرام اور دیگر سماجی فلاح وبہبود کے منصوبوں کی تعریف کی۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستانی عوام نے لاکھوں افغان مہاجرین کی بہترین مہمان نوازی کی ، کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کوسنبھالنے اور ان کی میزبانی کرنا قابل تعریف کام ہے ،مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور سکیورٹی پر برے اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ زیادتی تھی کہ ماضی میں ایک پرامن ملک کو منفی ریاست کے طور پر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ بطور سیکرٹری جنرل (اقوام متحدہ) آیا ہوں جبکہ اس سے قبل میں یہاں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے افغان پناہ گزین کے طور پر آتا رہا ہوں۔ یہاں کے لوگوں سے تعلقات بارے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم انتہائی سادہ، معصوم اور فراخدل قوم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بھارت کو کشمیریوں کے انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے مکمل تحفظ کی ضرورت ہے۔ وہ اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور دنیا کی تمام اقوام میں انسانی حقوق کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات میں سہولت کاری کر سکتے ہیں۔ پہلے بھی اس پیشکش کا اظہار کر چکا ہوں کیونکہ وہ دونوں ہمسایہ ممالک میں مذاکرات کے شدید خواہاں ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسئلہ پر ورلڈ بینک اس معاملے میں شامل تھا، دونوں ممالک میں پانی کا معاہدہ موجود ہے جس کے ذریعے مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ پانی کو امن اور ترقی کے خلاف آلہ کار کے طور پر استعمال نہیںکرنا چاہیے۔سیکرٹری جنرل نے پاکستان کی جانب سے عالمی درجہ حرارت کی تیزی کو کم کرنے کے لئے کی گئی کوششوں کی تعریف کی۔








