پشاور۔16 فروری (اے پی پی)وفاقی وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خان خٹک نے کہاہے کہ جس طرح ملک میں عدلیہ آزاد ہے اسی طرح نیب بھی آزاد ادارہ ہے، اس پر حکومت کی کوئی مداخلت نہیں ہے، احتجاج ، دھرنا، جلسے کرنا اور حکومت پر تنقید کرنا مولانا فضل الرحمان سمیت سب کا جمہوری حق ہے، مولانا نے پہلے بھی دھرنا دیا تھا، دوبارہ بھی دھرنا دینا …
نیب آزاد ادارہ ہے،اتحادی جماعتیں پہلے بھی حکومت کے ساتھ تھیں اورآئندہ چار سال بھی رہیں گے، وفاقی وزیر دفاع پرویز خان خٹک

مزید خبریں
پشاور۔16 فروری (اے پی پی)وفاقی وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خان خٹک نے کہاہے کہ جس طرح ملک میں عدلیہ آزاد ہے اسی طرح نیب بھی آزاد ادارہ ہے، اس پر حکومت کی کوئی مداخلت نہیں ہے، احتجاج ، دھرنا، جلسے کرنا اور حکومت پر تنقید کرنا مولانا فضل الرحمان سمیت سب کا جمہوری حق ہے، مولانا نے پہلے بھی دھرنا دیا تھا، دوبارہ بھی دھرنا دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے آرٹیکل 6 کی بات اسلئے کی ہے کیونکہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو کس نے کہا ہے کہ حکومت جارہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے یہ سوال کیا ہے کے کس کے کہنے پر انہوں نے حکومت کا تختہ الٹانے کی بات کی ہے بغیر کسی وجہ کے حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے ہیں تو آرٹیکل 6 یا جو بھی ہو وہ ان کے خلاف بن سکتا ہے ، اتحادیوں کے ساتھ کو ئی مسئلہ نہیںہے، چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں، اتحادی پہلے بھی ہمارے ساتھ تھے اور آئندہ چار سال بھی ساتھ رہیں گے، اپوزیشن سمیت سب کے ساتھ رابطے میں ہیں، قانون سازی پر ہم سب متفق ہیں،جلسے جلوس بھی کرسکتے ہیں لیکن قانون کے تحت کریں ہم ان کو کھبی نہیں روکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ کے تفصیلی دورے پر پراچہ ایسوسی ایشن کے نائب صدر حاجی رویل گل پراچہ کی بھاوج کی وفات پر اظہارتعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن کے چیئرمین اشفاق پراچہ ، پراچہ یوتھ کے صدر آصف پراچہ ، پراچہ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سجاد پراچہ بھی موجود تھے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب ا رد گان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل تھا،ترکی کے ساتھ ہمارے بہت سے معاہد ے ہوئے ہیں اور دفاعی شعبے میں بھی ترکی نے پاکستان کے ساتھ جوائنٹ ایڈونچر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے ایک معاہدہ ہوچکا ہے اور دوسرا معاہدہ ہونے والا ہے، ترکی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی، اپوزیشن کے ساتھ ملکر متفقہ طور پر قانون سازی بھی کررہے ہے اور کئی چیزوں پر اپوزیشن کے ساتھ ملکر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بل میں آرڈیننس آچکے ہیں اور اپوزیشن سے اس پر بات ہورہی ہے اور بہت جلد اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا ۔ وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے، خطے کے معروضی حالات سرحدوں کی صورتحال بھارت کی ہٹ دھر می مقبوضہ کشمیر نہتے مسلمانوں پر بھارتی مظالم اور بھارت کے جنگی جنون سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے اور پاکستان کیلئے سوچناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصا ف حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے، پی ٹی آئی حکومت نے اپوزیشن کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنایا یہ سارے مقدمات ماضی کی حکومتوں کے ہیں جو مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے تھے، حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطر ہ نہیں ہے، اپوزیشن کے الزمات بے بنیاد ہیں۔ دریں اثناں گل آباد خٹ کلے میںگیس کی کم پریشر کو ختم کرنے کیلئے ڈھائی کلومیٹر میں چار انچ پائپ لائن بچھانے کی تقریب اور ویلج ناظم مانکی شریف حاجی زاہد خان کے صاحبزادے محمد حمزہ کے دعوت ولیمہ کے موقع پر پرویز خٹک نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہمیں تباہ حال معاشی صورتحال اور معشیت ورثے میں ملی تھی، عمران خان نے پہلی فرصت میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت چاہتی ہے کیہ غریب عوام کے مسائل اور مشکلات میں کمی آئے، ہمیں پتہ ہے کے مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے اور غریب عوام مشکل میں ہے لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں ٹیکس دینے کیلئے کوئی تیار نہیں اور سارا بوجھ غریب عوام پر پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب معشیت کی بحالی شروع ہوچکی ہے اور وزیر اعظم عمران نے مہنگائی اور بیروزگاری کو کنٹرول کرنے کیلئے کام شروع کردیا ہے، حکومت کی اولین کو شش ہے کے پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے پاکستان کو اتنا مقروض کردیا کہ آج عوام کو یہ دن دیکھنے پڑرہے ہیں، پاکستان کا آئین غریب عوام کو مفت تعلیم مفت صحت کی سہولیات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے بھی انہی اصولوں پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترکی کے تجربات سے استفادہ حاصل کریں گے کیونکہ پندرہ سال قبل ترکی بھی اسی طرح قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور عوام پریشان تھے جب رجب طیب اردگان نے حکومت سنھبالی تو وہاں پر خوشحالی کا دور شروع ہوا اور آج ترکی پوری دنیا پر چھا چکا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کے ہرمشکل وقت کے بعد راحت آتی ہے اور اب عوام کے دن پھرنے والے ہیں، تحریک انصاف حکومت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا کر دم لے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اور حکومت ایک پیج پر ہیں، اداروں کی بحالی، انصاف اور میرٹ کی فراہمی حقداروں کو ان کا حق دلانا ہماری اولین ترجیح ہے اور میں نے بحیثیت وزیراعلی اس صوبے میں جو اصلاحات شروع کیں اس کا دائرہ وفاقی حکومت تک بڑھایا جارہا ہے کیونکہ ہم نے صوبے میں تمام اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کی اور کرپشن میں بڑی حد تک کمی لائی ،تھانہ اور پٹوار کلچر تبدیل کیا اور اسی تبدیلی کو محسو س کرکے عوام نے ہم پر بھر پور کیا اور 2013ء میں ہم نے خیبر پختون خواہ میں گیارہ لاکھ ووٹ لئے جبکہ 2018میں 23 لاکھ ووٹ لے کر دو تہائی اکثریت حاصل کی، یہ صوبائی حکومت تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان پر بھرپور اعتماد کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نوشہر ہ کے عوام کا ان پر بہت بڑا احسان ہے جنہوں نے پہلے مجھے وزیراعلی اور اب وزیر دفاع کی کرسی تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ میرے مخالفین کہہ رہے ہیں کے میں نے نوشہرہ کی سیاست پر قبضہ جمارکھا ہے حقیقت یہ ہے کہ میں نے عوام کے دل جیتے ہیں، میرے مخالفین اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ انہوں نے انتخابات کے بعد عوام کا پوچھا ہے یہی وجہ ہے کے نوشہرہ میں تمام سیاسی جماعتوں کا صفایا ہورہاہے، لوگ مہنگائی کے باوجود بھی تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فنڈز اور وسائل عوام کے ہیں اور یہ عوام پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کے وہ اپنے ذمہ ٹیکس دیں تاکہ ترقی کا پہیہ چلتا رہے۔








