خیبرپختونخواہ میں ہم نے ایک ارب سے زائد درخت لگا کر عالمی پذیرائی حاصل کی، آئندہ پانچ سالوں کے دوران ہمارا ہدف ملک بھر میں 10ارب درخت لگانا ہے وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں ہم نے ایک ارب سے زائد درخت لگا کر عالمی پذیرائی حاصل کی، آئندہ پانچ سالوں کے دوران ہمارا ہدف ملک بھر میں 10ارب درخت لگانا ہے،کلین اینڈ گرین پاکستان، بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، پلاسٹک بیگز پر پابندی اور ریچارج پاکستان پر مشتمل پانچ نکاتی ایجنڈا …

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں ہم نے ایک ارب سے زائد درخت لگا کر عالمی پذیرائی حاصل کی، آئندہ پانچ سالوں کے دوران ہمارا ہدف ملک بھر میں 10ارب درخت لگانا ہے،کلین اینڈ گرین پاکستان، بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، پلاسٹک بیگز پر پابندی اور ریچارج پاکستان پر مشتمل پانچ نکاتی ایجنڈا کی تکمیل کو یقینی بنانا وزیراعظم عمران خان اور حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی پر کی جانے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر عالمی سطح کے مندوب، مختلف این جی اوز کے نمائندے اور موسمیاتی تبدیلی کے حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم نے کہا کہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان دنیا کی آلودگی میں صرف 0.5فیصد حصہ رکھتا ہے جو کہ بہت کم ہے جبکہ اس میں موسمیاتی اثرات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات انتہائی زیادہ ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ ہماری جغرافیائی حیثیت ہے جس کی وجہ سے پاکستان قدرتی آفات سے دوچار رہتا ہے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے 1980ء میں ایک کتاب لکھی انڈس جرمنی، وادی سندھ کا سفر جس میں انہوں نے ماحولیاتی آلودگی، اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر بات کی۔ اس وقت اس حوالے سے کسی کو علم نہیں تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت کو وزیراعظم عمران خان نے ایک ارب درخت لگانے کا ہدف دیا جس کو ہم نے ایک ارب سے زائد درخت لگا کر عالمی پذیرائی حاصل کی۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ آئندہ پانچ سالوں کے دوران ہمارا ہدف ملک بھر میں 10ارب درخت لگانا ہے جس کے ساتھ ساتھ کلین اینڈ گرین پاکستان، بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، پلاسٹک بیگز پر پابندی، ریچارج پاکستان پر ،مشتمل پانچ نکاتی ایجنڈا کی تکمیل کو یقینی بنانا وزیراعظم عمران خان اور حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پانی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں اور زیر زمین پانی پر مرتب ہونے والے اثرات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مسئلے پر مذاکرات کیے جائیں کیونکہ زیرزمین پانی اور مون سون کے موسم میں تبدیلی کی وجہ سے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اس معاملہ پر موثر مذاکرات کر کے اس معاہدے کو دوبارہ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت بن چکی ہے جبکہ عالمی اقدام ناکام ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوںسے مقابلہ کرنے اور اسے کم کرنے کے لئے کوششوں کو تین گنا بڑھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ عالمی درجہ حرارت 1.5فیصد سے تجاوز کرنے پر شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ سال عالمی کلائمنٹ ایکشن سمٹ کا انعقاد کیا تھا