اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، پاکستان افغانستان سمیت خطہ میں امن کا خواہاں ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء کو دفتر خارجہ میں ملاقات کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بریفنگ دیتے …
کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، پاکستان افغانستان سمیت خطہ میں امن کا خواہاں ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بین الاقوامی سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء کو خارجہ پالیسی کے بارے میں بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، پاکستان افغانستان سمیت خطہ میں امن کا خواہاں ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء کو دفتر خارجہ میں ملاقات کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ ملاقات کے دوران ملکی سلامتی کے امور اور خارجہ پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے شرکاء کو ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، پاکستان افغانستان سمیت خطہ میں امن کا خواہاں ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شرکاء کو بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے عالمی سطح پر درپیش چیلنجز اور دفتر خارجہ کی جانب سے اہم اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد ہمارے لئے درپیش چیلنج امریکہ اور عالمی برادری سے تعلقات کو ایک نئے زاویے سے استوار کرنا تھا، پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے تمام مسائل کے حل کیلئے اہم جزو سمجھا جا رہا ہے جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی ٹیرر فنانسنگ کے خلاف کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سب سے اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست2019ء کا بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی تھا۔ لاکھوں کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، کشمیری عوام کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ایک متفقہ مؤقف رکھنے پر اپوزیشن کے شکر گزار ہیں۔








