لیہ/اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس آمدن پروگرام کے تحت مستحق افراد اپنی آمدن کما کر اپنے لئے روٹی ،کپڑے اور مکان کا خود انتخاب کریں گے۔اس پروگرام کے تحت انتہائی مستحق افراد کو مفت اثاثے دے کر باعزت روزگار کے قابل بنایا جارہا ہے۔روزگارکی فراہمی سے ہی مستحق افراد غربت …
احساس آمدن پروگرام کے تحت مستحق افراد اپنی آمدن کما کر اپنے لئے روٹی ،کپڑے اور مکان کا خود انتخاب کریں گے، وزیر اعظم عمران خان کل لیہ میں احساس آمدن پروگرام کے تحت مستحق افراد کو اثاثہ جات دے کر افتتاح کریں گے،وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی احساس آمدن پروگرام کے حوالے سے پریس کانفرنس اور بیان

مزید خبریں
لیہ/اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس آمدن پروگرام کے تحت مستحق افراد اپنی آمدن کما کر اپنے لئے روٹی ،کپڑے اور مکان کا خود انتخاب کریں گے۔اس پروگرام کے تحت انتہائی مستحق افراد کو مفت اثاثے دے کر باعزت روزگار کے قابل بنایا جارہا ہے۔روزگارکی فراہمی سے ہی مستحق افراد غربت کی لکیر پار کرسکتے ہیں۔یہ بات انھوں نے ڈی سی آفس کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر کوارڈی نیٹر ڈاکٹر شہباز گِل ،ضلعی صدر پی ٹی آئی افتخارعلی بابر کھتران ،بشارت رندھاوا،مینجراحساس پروگرام محمدفاضل اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی کثیرتعداد موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کل (21فروری کو ) سپورٹس کمپلیکس لیہ میںمنعقدہ تقریب میں احساس آمدن پروگرام کے تحت مستحق افراد کو اثاثہ جات دے کر افتتاح کریں گے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ شفاف سروے کے بعد میرٹ پر آنے والے انتہائی مستحق افراد میں 60ہزار روپے مالیت کے اثاثے مفت تقسیم کیے جائیں گے۔انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات میں بتایا کہ60فی صد خواتین ،40فیصد مرد و دیگر کمیونٹی سے انتخاب کیاگیا ہے احساس آمدن پروگرام کے تحت منتخب افراد میں 60ہزار روپے مالیت کی گائے بکریاں ،رکشے ،ٹھیلے اور دکانوں کے لیے سامان مہیاکیاجائے گاتاکہ وہ باعزت روزگار کماکر اپنے کنبے کی کفالت کرسکیں۔اس پروگرام کے تحت مستحقین کی رجسٹریشن غربت سروے کے تحت کی جارہی ہے۔ ملک بھر کی 375پسماندہ یونین کونسل کے 1لاکھ 76ہزار خاندانوں کو مستفید کرنے کے لئے جاری ہے اورضلع لیہ کی 20یونین کونسلوں کے 10ہزار خاندانوں کو پہلے مرحلے میں اس پروگرام کے تحت اثاثے دیئے جارہے ہیں تاکہ یہ افراد غربت کی لکیر سے باہر نکل کر ملکی معیشت میں بہتر روزگار کے ذریعے اپنا حصہ ڈال سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ حکومت پر بھروسہ رکھا جائے وزیر اعظم عمران خان انتہائی دیانت داری سے غریب طبقہ کو قومی ترقی کے دھارے میں لانے کے لئے ہرممکن اقدامات اْٹھارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی انتہائی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے جس میں کرپشن ،بدعنوانی اور صوابدیدی اختیارات کی ہرگز گنجائش نہیں ہوگی اور خالصتاً ویلج کمیٹیوں کے تحت سروے اور سکروٹنی کاعمل مکمل کیا جارہا ہے۔کوارڈی نیٹر ڈاکٹر شہباز گل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان 66کروڑ روپے کے اخراجات سے چلنے والے وزیر اعظم ہائوس کو اب صرف 2لاکھ روپے ماہانہ میں چلارہے ہیں اور ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم خود اپنے تمام بلوں کی ادائیگی کررہے ہیں۔ قبل ازیں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ احساس آمدن پروگرام احساس فریم ورک کے تحت جاری کئے جانے والے پروگراموں میں سے ایک ہے جس کا بنیادی مقصد پسماندہ طبقات کیلئے ذریعہ معاش کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ آمدن پروگرام میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کو چھوٹے اثاثے دینا شامل ہے تاکہ وہ روزگار کما سکیں اور غربت سے باہر نکل سکیں۔ پروگرام کے تحت منتقل کئے جانے والے اثاثہ جات میں مویشی (بکریاں، گائے اور پولٹری)، زرعی آلات، چنگ چی رکشہ باڈی فریم، چھوٹے دکانداروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے سامان آلات شامل ہیں۔ اس پروگرام کا بجٹ 15 ارب روپے ہے۔ پروگرام کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں 23 غریب ترین اضلاع کی 375 دیہی یونین کونسلوں میں شروع کیا جا رہا ہے، اس چار سالہ پروگرام کا ہدف مستحق گھرانوں کو 200,000 اثاثہ جات مہیا کرنا ہے۔ مستحقین میں60 فیصد خواتین اور 30 فیصد نوجوان شامل ہیں، مجموعی طور پر 1.4 ملین افراد اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف،احساس آمدن پروگرام پر عملدرآمد کاکام سرانجام دے رہا ہے۔ احساس آمدن پروگرام کے مستحقین کی نشاندہی غربت سکور کارڈ سروے کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کے وہ اضلاع جہاں اس پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے ان میں ڈیرہ غازی خان، جھنگ اور لیہ شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا کے 10 اضلاع اپر کوہستان، لوئر کوہستان، پالاس کولائی، تورغر، بٹ گرام، شانگلہ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیر ستان، ڈیرہ اسمعیل خان، ٹانک ہیں۔ بلوچستان کے تین اضلاع میں جھل مگسی، ژوب اور شہرانی شامل ہیں۔ سندھ کے اضلاع میں بدین، ٹھٹھہ، سجاول، کشمور، شکارپور، تھرپارکر اور عمر کوٹ شامل ہیں۔








