اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی)آل پاکستان بزنس فورم (اے پی بی ایف) نے پاکستان میں ہنگری کے سفارتخانے کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس سے پاکستان اور ہنگری کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں سے اقتصادی رابطوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔ آل پاکستان ریجنل فورم کے صدر سید معاذ محمود نے ایسوسی ایشن کی جانب سے جبکہ ہنگری کے سفیر استوان سیبو …
آل پاکستان بزنس فورم اور ہنگری کے سفارتخانے کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی)آل پاکستان بزنس فورم (اے پی بی ایف) نے پاکستان میں ہنگری کے سفارتخانے کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس سے پاکستان اور ہنگری کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں سے اقتصادی رابطوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔ آل پاکستان ریجنل فورم کے صدر سید معاذ محمود نے ایسوسی ایشن کی جانب سے جبکہ ہنگری کے سفیر استوان سیبو نے اپنی ملک کی جانب سے ایم او یو پر دستخط کیے۔ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب میں اے پی بی ایف کے سیکرٹری جنرل خرم نیاز خان سمیت فورم کے دیگر عہدیداروں عامر منیر، معین خورشید اور ہنگری کے سفارتخانے کے کمرشل اتاشی ڈاکٹر استوان گرافی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سید معاذ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزنس فورم پاکستان اور ہنگری کے درمیان تجارتی اور معاشی رابطوں کے استحکام کے حوالے سے ہر طرح کی معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ 20فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ نہ صرف خوراک اور خام مال فراہم کرتا ہے بلکہ ملک کی ایک بڑی آبادی کے لئے روزگاری کی فراہمی کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اے پی بی ایف کے صدر نے کہا کہ فورم کاروباری برادری سے رابطوں اور معاشی تعلقات کے فروغ کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہنگری کے سفیر استوان صیبو نے کہا کہ ان کا سفارتخانہ تجارت، تعلیم، عوامی رابطوں، ثقافت، صنعتی مساوات سمیت دیگر مختلف شعبوں میں ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے شراکت داری کی بنیاد پر باہمی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہنگری باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتے ہیں اور ہنگری زراعت، لائیو سٹاک، ماہی گیری اور فوڈ پراسیسنگ میں تکنیکی معاونت کی پیشکش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگری نے زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور اچھی زرعی تکنیک کے ذریعے نمایاں ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم او یو سے دونوں ممالک کے باہمی رابطوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔








