دس سال تک انرجی مکس میں قابل تجدید ذرائع سے حاصل کردہ توانائی کو بڑھا کر 65 سے 70 فیصد تک کردیا جائے گا، ذرائع پاور ڈویژن

اسلام آباد ۔ 17 مارچ (اے پی پی) حکومت نے 2030ء تک 70 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیداکرنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس وقت قابل تجدید توانائی کا مجموعی انرجی مکس میں حصہ 2500 میگاواٹ ہے جسے 2025ء تک 8 ہزار میگاواٹ اور 2030ء تک 20 ہزارمیگاوٹ تک بڑھایا جائے گا جبکہ اگلے 10 سالوں میں پن …

اسلام آباد ۔ 17 مارچ (اے پی پی) حکومت نے 2030ء تک 70 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیداکرنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس وقت قابل تجدید توانائی کا مجموعی انرجی مکس میں حصہ 2500 میگاواٹ ہے جسے 2025ء تک 8 ہزار میگاواٹ اور 2030ء تک 20 ہزارمیگاوٹ تک بڑھایا جائے گا جبکہ اگلے 10 سالوں میں پن بجلی سمیت انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کو بڑھا کر 65 سے 70 فیصد تک کردیا جائے گا۔ متبادل قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 12 منصوبوں میں صرف 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے سستی بجلی پیدا کرنے کے اقدامات سے مستقبل میں نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ صنعتی و کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مزید خبریں