خیبر پختونخوا حکومت کا کورونا وائرس کی عالمی وباءسے نمٹنے کیلئے مزید اہم اقدامات کا اعلان

پشاور۔18 مارچ (اے پی پی)صوبائی حکومت نے کورونا وائرس وباءسے نمٹنے کیلئے مزید اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت نہ صرف بازاروں اور شاپنگ مالز کیلئے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کر دئے گئے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور دیگر نجی مقامات پر بھی مختلف قسم کی تقریبات پے پابندی عائد کر دی ہے ، وزیرا علیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان …

پشاور۔18 مارچ (اے پی پی)صوبائی حکومت نے کورونا وائرس وباءسے نمٹنے کیلئے مزید اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت نہ صرف بازاروں اور شاپنگ مالز کیلئے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کر دئے گئے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور دیگر نجی مقامات پر بھی مختلف قسم کی تقریبات پے پابندی عائد کر دی ہے ، وزیرا علیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان نے بدھ کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو ان اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پوری قوم کیلئے کڑے امتحان کا وقت ہے جس سے نمٹنے کیلئے قوم کو حکومت کا دست و بازو بننا ہو گا ، انھوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کورونا وباءسے بچنے کیلئے جو بھی کچھ کر رہی ہے اس کا واحد مقصدعوام کی زندگیوں اور صحت کا تحفظ ہے، انھوں نے کہا یہ ایک جنگ جسے ہم سب نے ملکر لڑنا اور جیتنا ہے اور اس کے دوران کٹھن مرحلوں کا خندہ پیشانی سے سامنا کرنا ہو گا، وزیرا علیٰ نے کہا کہ ہم وباءسے نمٹنے کے حوالے سے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں پہلے شادی ہالز وغیرہ میں تقریبات پر پابندی عائد کی گئی تاہم اب ضروری ہو گیا کہ گھروں اور نجی مقامات پر بھی تقریبات پر پابندی عائد کی جائے، انھوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام بازار اور شاپنگ مالز صبح دس بجے سے شام 7بجے تک کھلے رہینگے جس کے بعد یہ بند ہو جائیں گے تاہم عام کریانہ سٹورز پراس پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا ، انھوں نے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس دوران بھی صرف انتہائی ضرورت کے تحت بازاروں کا رخ کریں اور حتی الامکان خود کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھیں ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی ہو ا ہے کہ حجاموں کی دکانیں اور بیو ٹی پالررزبھی 15روز کیلئے بند رہیں گے ، انھوں نے کہاکہ سرکاری دفاتر کے نئے اوقات صبح 10سے سہ پہر چار بجے تک ہونگے جبکہ جمعہ کو 12بجے چھٹی ہو گی ،انھوں نے کہا کہ صوبے کے سیاحتی مقامات کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اس لئے عوام ان مقامات کا رخ نہ کریں ویسے بھی تعلیمی ادروں کی چھٹیاں سیر و تفریح کیلئے نہیں دی گئیں بلکہ وباءسے مقابلے کے تناظر میں دی گئی ہیں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری نوعیت کے اجلاسوں میں پانچ سے زیادہ افسران شرکت نہیں کرینگے اور اگر ضرورت ہوئی تو ویڈیو کانفرسنگ کا سہارا لیا جا ئے گا ، انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور اطلاعات کے علاوہ دیگر تمام سرکاری دفاتر کو عوام کیلئے بند کر دیا گیا ہے جبکہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کے احاطے میں کھانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے ، انھوں نے کہا کہ تمام بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اے ٹی ایم مشینوں کے قریب سینی ٹائزرز کی فراہمی یقینی بنائیں ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ وقت استغفار اور خصوصی دعاوں کے اہتمام کا ہے عوام ہر مقام پر اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اس وباءسے نجات کیلئے دعائیں مانگیں باقی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنی ذمی داریوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ انکی ادائیگی کیلئے بھی مصروف عمل ہیں اور میں خود بہ حیثیت وزیرا علیٰ اس وباءکیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہا ہوں۔

مزید خبریں