اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملہ کو حفاظتی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اگلے تین روز میں مزید سامان بھی دیا جائے گا، وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کے لئے لیبارٹریز کی تعداد میں اضافہ کیا …
ملک بھر میں کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملہ کو حفاظتی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اگلے تین روز میں مزید سامان بھی دیا جائے گا، وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کے لئے لیبارٹریز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کی میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملہ کو حفاظتی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اگلے تین روز میں مزید سامان بھی دیا جائے گا، وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کے لئے لیبارٹریز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ وہ بدھ کو وزیر اعظم کی موجودگی میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 13 مارچ کے بعد اسلام آباد سمیت سات اکائیوں میں سے تین کی جانب سے ہمیں باقاعدہ تحریری طورپر سامان کی ڈیمانڈ بھیجی گئی، باقی کی جانب سے وقتاً فوقتاً ٹیلی فون پر بھی جو ڈیمانڈ آتی رہی ہے، اس کو بھی پورا کیا گیا ہے اور جہاں سے ڈیمانڈ نہیں آئی تھی وہاں ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تعداد کو مدنظر رکھ کر ہم نے خود اپنے طور پر حفاظتی سامان کی ضرورت کا تخمینہ لگایا، اس سلسلے میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں کام کرنے والے طبی عملہ کے تناسب سے سامان بھوایا گیا ہے۔ انوہں نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے لئے ہم نے چھ ہزار افراد کو سامان پہنچانے کی ضرورت کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ 18 ہزار کے لئے طبی سامان فراہم کیا گیا، اس کے علاوہ 56 ہسپتالوں کے 20 ہزار عملہ کے لئیس امان تیار ہے جو اگلے تین روز میں متعلقہ ہسپتالوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کی طرف سے بھی کوئی تحریری ڈیمانڈ نہیں دی گئی، ہم نے صوبہ سندھ کے ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر سٹاف کی تعداد کے تناسب سے 9 ہزار کے عملہ کے لئے سامان کا تخمینہ لگایا لیکن 15 ہزار کے لئے سامان فراہم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ مزید سامان بھجوانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے، صوبہ سندھ کے 42 ہسپتال ہماری فہرست میں موجود ہیں، انہیں بھی اگلے تین دنوں کے اندر اندر سامان پہنچا دیاجائے گا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی جانب سے کل پہلی تحریری ڈیمانڈ آئی ہے، ہم نے اس سے قبل اپنے تخمینے کے تحت دس ہزار 8 سو پی پی ایز بھیج دی تھیں، مزید سامان اگلے تین دنوں میں ہسپتالوں کو براہ راست سامان بھجوا دیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ڈیمانڈ بھی نہیں آئی تھی، وہاں کے طبی عملہ کی تعداد کے تناسب سیہم نے اپنے طور پر دو ہزار کا تخمینہ لگایا اور 8 ہزار کے لئے سامان بھجوایا، اس طرح گلگت بلتستان کی ڈیمانڈ 15 ہزار آئی تھی، وہاں 24 ہزار بھیجا گیا اور ابھی 4 ہزار مزید بھجوائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لئے 18 ہزار کی ڈیمانڈ تھی جس میں سے ہسپتالوں کو 8 ہزار فراہم کر چکے ہیں، اگلے تین دنوں سے مزید چھ ہزار فراہم کر دیئے جائیں گے۔ آزاد جموں و کشمیر سے 10 ہزار کی ڈیمانڈ آئی تھی 13 ہزار فراہم کر چکے ہیں جبکہ دو ہزار مزید بھجوائے جا رہے ہیں۔ انہون نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس وقت وینٹی لیٹرز کی کمی ہے لیکن ہم نے اپنے مقرر کردہ اہداف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے حاصل کر لئے ہیں۔ انہون نے مزید کہا کہ 13 مارچ کو ہمارے پاس صرف 14 لیبارٹریز ایسی تھیں جہاں پر کورونا کے ٹیسٹ کا انتظام کیا جا سکتا تھا، آج 22 لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں، 12 یگر لیبارٹریوںکا سامان صوبوں کو بھیج دیا گیا ہے، اضافی لیبارٹریوں کے لئے بھی اتظام کیا گیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ کم از کم ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں لیبارٹری کی سہولت دستیاب ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ ٹیسٹنگ کٹس آج رات کو آ رہی ہیں، کٹس کے معیار کی تصدیق کے لئے چیکنگ کا انتطام بھی کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کٹس میں 35 ہزار سندھ، 15 ہزار بلوچستان، 25، 25 ہزار خیبرپختونخوا اور پنجاب دی جائیںگی، پرسو ں رات کو بھی دو لاکھ 35 ہزار مزید کٹس پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کٹ کے علاہو بھی این 95 ماسک پنجاب کو 17 ہزار، سندھ کو 8 ہزار، کے پی کے کو 9 ہزار 700، بلوچستان کو 6 ہزار 200، گلگت بلتستان کو 2 ہزار 750، اسلام آباد کے ہسپتالوں کو ایک ہزار اور آزاد جموں و کشمیر کو 2800 دیئے جا چکے ہیں۔








