اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر صوبوں کی مشاورت سے لاک ڈائون ختم کرنے یا توسیع کا فیصلہ کرے گا' حالات لائحہ عمل کو بدل سکتے ہیں، اگر کورونا وائرس کے پھیلائو میں شدت پیدا ہوتی ہے تو اس سے …
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر صوبوں کی مشاورت سے لاک ڈائون ختم کرنے یا توسیع کا فیصلہ کرے گا، وبا میں شدت کی صورت میں زیادہ سخت ہدایات لاگو کرنا پڑیں گی وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر صوبوں کی مشاورت سے لاک ڈائون ختم کرنے یا توسیع کا فیصلہ کرے گا’ حالات لائحہ عمل کو بدل سکتے ہیں، اگر کورونا وائرس کے پھیلائو میں شدت پیدا ہوتی ہے تو اس سے بھی زیادہ سخت ہدایات لاگو کرنا پڑیں گی، 14 اپریل سے قبل آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا۔ جعمرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عوامی کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے، کورونا وائرس کی جو صورتحال چل رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی ٹیم کام کر رہی ہے، وزیراعظم یومیہ کی بنیاد پر بریفنگ لے رہے ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں سول اور ملٹری قیادت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر یومیہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے یومیہ کی بنیاد پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ کورونا سے بھی لڑنا ہے اور بھوک، افلاس اور بے روزگاری سے بھی نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 اپریل کے بعد کنسٹرکشن انڈسٹری کھولنے کیلئے صوبائی حکومتیں ایس او پی بنا رہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ لازمی اشیاء کی فہرست بھی صوبوں کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت ہر صورت چلے گی اور برآمدت کے حوالہ سے بھی متعلقہ وزیر چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایات اور علماء کرام کی آگاہی پر عمل کرتے ہوئے پوری قوم کا شب برأت کے موقع پر گھروں میں رہ کر عبادات کرنا یکجہتی اور اتحاد کا پیغام ہے ، یہی ہماری منزل تھی۔








