لاک ڈاو¿ن میں نرمی سے وائرس دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے ، ڈبلیو ایچ او

جنیوا ، سوئٹزرلینڈ۔ 21 اپریل (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں لاک ڈاو¿ن سے پابندیاں اٹھانے سے دنیا میں کورونا وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سینئر اہلکار ڈاکٹر تکاشی کاسائی نے بتایا ہے کہ یہ لاپروائی کا وقت نہیں بلکہ ہمیں خود کو نئی طرز زندگی …

جنیوا ، سوئٹزرلینڈ۔ 21 اپریل (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں لاک ڈاو¿ن سے پابندیاں اٹھانے سے دنیا میں کورونا وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سینئر اہلکار ڈاکٹر تکاشی کاسائی نے بتایا ہے کہ یہ لاپروائی کا وقت نہیں بلکہ ہمیں خود کو نئی طرز زندگی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ صحت کے عالمی ماہرین کے خدشات ایسے وقت پرسامنے آئے ہیں جب امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک نے اس ہفتے سے لاک ڈاو¿ن میں نرمی کا آغاز شروع کیا ہے۔ امریکی کی کچھ ریاستوں میں کاروبار اور صنعت کو بڑے پیمانے پر کھول دیا گیا۔ جبکہ مہلک وائرس کے شکار جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک نے بھی پابندیاں مرحلہ وار اور بتدریج انداز میں اٹھانے کی شروعات کر دی گئی ہیں۔ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد قابو میں آنے کے بعد وہاں آئندہ ہفتے سے ہسپتالوں میں معمول کے آپریشن بھی شروع کردیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتوں کا اصرار ہے کہ جہاں بھی نقل و حرکت میں نرمی کی جا رہی ہے وہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور حفظان صحت کی ہدایات کی پاسداری کرنا ہوگی تاہم صحت کے ماہرین کو تشویش ہے کہ ہر جگہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا مشکل ہوگا۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے میں کورونا وائرس کی دوسری لہر پھیل سکتی ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق اس کی بڑی مثال 1918ءمیں انفلوئنزا کی تباہ کن وباءہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے کیونکہ یہ وباءبظاہر تھم جانے کی بعد پھر لوٹتی رہی اور ہر دفعہ پہلے سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کورونا وائرس کی ویکسن ایجاد نہیں ہوتی، وباءکی روک تھام کے لیے نقل و حرکت پر جلد بازی میں پابندی اٹھانا نقصان دہ عمل ہو سکتا ہے۔